’این آر او معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اٹارنی جنرل جواب تیار کر رہے ہیں جو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کردیا جائے گا: فردوس عاشق اعوان

وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جو چھ آپشنز دی تھیں اُن میں سے ایک آپشن پر عمل کرتے ہوئے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے منگل کے روز متفقہ فیصلے میں چھ آپشنز دی تھیں اُن میں وزیر اعظم اور سیکرٹری قانون کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے، این آر او عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیشن کی تشکیل کے علاوہ اس معاملے کو عوام یا پارلیمان میں اُن کے نمائندوں کو سپرد کردیا دیے جانے کے بارے میں بھی کہا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں اتحاد میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق جواب تیار کر رہے ہیں جو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت جس کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں ہے وہ اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی قدم نہیں اُٹھاسکتی۔

اگر تمام ادارے آئین میں دی گئی حدود میں رہ کر کام کریں تو کوئی تصادم نہیں ہوگا اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اسی بات کی جدوجہد کر رہی ہے کہ تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر داخلہ رحمان ملک نے وزیر اعظم پر اعتماد کی ایک قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو سیاسی شہید بننے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس جماعت کی تایخ ہی قربانیوں سے لکھی گئی ہے۔

اُنہوں نے حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ متنازع میمو کے خلاف درخواست دائر کرنے کی بجائے کیا یہ اچھا ہوتا کہ وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف ائین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے۔

اسی بارے میں