شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ ap

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی ڈرون حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ہوا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملے میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے یہ گاڑی ڈوگہ مداخیل کے بازار سے دتہ خیل کی جانب جا رہی تھی۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مقامی نہیں تھے۔ مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت فضا میں چار ڈرون پرواز کر رہے تھے۔

مقامی آبادی کے مطابق اس حملے کے بعد طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے جنگجو زخمی ہونے والوں اور لاشوں کو نامعلوم جگہ لے گئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ڈرون حملوں کو روک دیا گیا تھا۔

سلالہ حملے پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کو بھی بند کر دیا تھا۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔

امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل دو سو تراسی امریکی ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

امریکی اداروں کے مطابق دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، دو ہزار نو میں تریپن، دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور دو ہزار گیارہ میں ستر امریکی حملے ہوئے۔

اسی بارے میں