میمو:نظرِ ثانی کی درخواست پر خصوصی بینچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عاصمہ جہانگیر نے عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیے جانے کے فیصلے سے متعلق نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے جمعرات کو گیارہ رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا ہے جو منگل سترہ جنوری سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی یہ درخواست امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دائر کی تھی۔

گزشتہ سال تیس دسمبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم نو رکنی بینچ نے متنازع میمو سے متعلق درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی سربراہی میں ایک تین رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

عدالت نے اس کمیشن کو چار ہفتوں میں متنازع میمو کے معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس نے کام شروع کر دیا ہے۔

تاہم عاصمہ جہانگیر نے عدالت کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب مرضی کے فیصلے ہونے ہیں تو پیروی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں