پارلیمانی بالادستی، اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسفند یار ولی کی جماعت اے این پی حکومت کی حمایت جاری رکھے گی

پاکستان پیپلز پارٹی نےاپنے اتحادیوں کے ہمراہ پارلیمانی بالادستی کے بارے میں ایک قرارداد جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اتحادی جماعتوں کے بعض اراکین نے کہا ہے کہ اگر قرارداد کے متن میں ریاستی اداروں کے درمیان تصادم کا تاثر نہ پایاگیا تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوری حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں متحدہ قومی مومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کا جمعرات کو قومی اسمبلی کے سیشن سے پہلے ایک اجلاس ہوا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔

اجلاس کے بعد حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے حیدر عباس رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سمیت تمام اداروں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی اور اگر اس میں ریاستی اداروں کے ٹکراؤ کی بات نہیں کی جاتی تو ان کی قیادت قرارداد کی حمایت کرے گی۔

اجلاس کے بعد وزیر دفاع احمد مختار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اور ہمارے اتحادی امن چاہتے ہیں اور اتحادی، حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو پارلیمان کی بالادستی کے حق میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام اتحادی جماعتوں کی جانب سے قرارداد پیش کرنے کی بابت اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کی رہنماء بشرا گوہر نے بھی کہا کہ ان کی جماعت حکومت کی حمایت جاری رکھے گی۔

پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی ملاقات کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ پیپلزپارٹی کے ایم این اے عظیم دولتانہ کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت اور پیر پگارا شاہ مردان شاہ کے انتقال کی وجہ سے قومی اسمبلی کا اجلاس روایت کے مطابق تعزیت کے بعد اگلے روز تک ملتوی کردیا گیا۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنماء چوہدری نثار نے اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایمرجنسی اور مختصر نوٹس پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر شدید اعتراض ہے اور وہ اس کا اظہار جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کریں گے۔

انہوں نے پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والے اجلاس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چند ساتھیوں نے بتایا ہے کہ حکومت اسمبلی میں اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے لیے اراکین اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی یا پھر کوئی قرراداد پیش کرنے والی ہے اور ایسا ہوا تو تمام حزب اختلاف کے رہنماء اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔

انہوں نے جمعہ کو ہونے والے اجلاس سے متعلق حکومت پرالزام لگایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پیچھے حکومت کا مقصد عدلیہ کے احکامات کی نفی کرنا اور پارلیمنٹ کو سیاسی اکھاڑا بناتے ہوئے دوسرے اداروں کے سامنے لا کھڑا کرنا ہے۔

امریکی تشویش

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش ہے اور یہ کہ وہ آج بھی ملک کی جمہوری حکومت کی حمایت کے موقف پر قائم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن میں انہوں نے نئی پاکستانی سفیر شیری رحمن سے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر بات کی تھی۔

ہلیری کلنٹن نے کہا ’ظاہر ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر ہم نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ ہم پاکستان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ جم کے کھڑے ہیں اور ہم اب بھی اسی پر قائم ہیں‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ہمیں امید ہے کہ پاکستان اپنے ان اندرونی معاملات کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے اس انداز میں حل کرے گا جس سے قانون اور آئین کا بول بالا ہو‘۔

اسی بارے میں