سینیٹ انتخابات دو مارچ کو: الیکشن کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان کی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اتخابات دو مارچ کو ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے انتخابات کا شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات 54 نشستوں پر ہوں گے جن میں اقلتیوں کے لیے مخصوص چار نشستیں بھی شامل ہیں۔

پی پی پی کا فائدہ، ق لیگ کا نقصان

الیکشن کمیشن کے مطابق ان نشستوں کے لیے 13 اور 14 فروری کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا سکتے ہیں جبکہ 16 اور 17 فروری کو کاغذات کی جانچ پڑتال ہوں گی جس کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کی جائے گی۔

ہر تین سال بعد سینیٹ کے نصف نشتوں پر انتخابات ہوتے ہیں اور ایک سینیٹر چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتا ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یا سینیٹ کے اراکین کی تعداد ایک سو ہے۔

اس وقت سینٹ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ستائیس اراکین ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کے اکیس، جمیعت علماء اسلام کے دس، پاکستان مسلم لیگ نواز کے سات، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے چھ چھ، قبائلی علاقوں کے آٹھ، آزاد چار، جماعت اسلامی اور بلوچستان نینشل پارٹی تین، تین ، نیشنل پارٹی دو ، پاکستان مسلم لیگ ف اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشت ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقلتیوں کی نشتوں پر انتخاب ہوگا۔

اٹھارہویں ترمیم میں اقلیتیوں کے لیے چار نشستیں مختص کی گئی ہیں اور اس طرح سینیٹ کے کُل اراکین کی تعداد اب سو سے بڑھ کر ایک سو چار ہوگئی ہے۔

ہر صوبائی اسمبلی سینیٹ کے بارہ اراکین کو منتخب کریں گے جن میں سے عمومی نشستوں پر سات اراکین کو منتخب کیا جائے گا جبکہ دو دو نشتیں خواتین اور علماء یا ٹیکنوکریٹ اور ایک نشت اقلتیوں کے لیے مختص ہے۔

اس کے علاوہ فاٹا کے چار نشستوں پر انتخاب ہوگا اور ان کا انتخاب قومی اسمبلی میں فاٹا کے اراکین کرتے ہیں اور اس طرح سے اسلام آباد کی کل تین نشتوں میں سے دو پر انتخاب ہوگا اور ان کا انتخاب قومی اسمبلی کے تمام اراکین کریں گے۔

ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق سینیٹ کے انتخابات کے نتیجے میں سب سے بڑے چیلنج کا سامنا حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ( ق) کو ہے کیوں کہ ان کے کُل اکیس اراکین میں سے بیس اراکین کی مدت مکمل ہورہی ہے۔ دوسرے نمبر پر جمیعت علماء اسلام ہے جن کے دس میں سے سات اراکین کی معیاد پوری ہورہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سینٹ کے انتخابابت کے نتیجے میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل ہوجائے گی۔

اسی بارے میں