سلیم شہزاد قتل: ’کوئی بھی فریق ملوث ہوسکتا ہے‘

سلیم شہزاد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حکومتِ پاکستان کی طرف سے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کیے جانے والے کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کوئی بھی فریق اس قتل میں ملوث ہوسکتا ہے۔

کمیشن نے کہا ’ایک تحقیقاتی صحافی کے طور پر سلیم شہزاد کی تحریریں ممکن ہے اس جنگ میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء فریقوں، پاکستانی ریاست، غیر ریاستی کردار جیسے کہ طالبان اور القاعدہ اور غیر ملکی کرداروں میں سے کسی کی ناراضی اور غصہ کا باعث بنی ہوں۔‘

’ان میں سے کسی کا بھی اس جرم کے ارتکاب کا مقصد ہوسکتا تھا اور واضح طور پر وہ ان تمام کے ساتھ رابطے میں تھے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ گواہان کا اصرار ہے کہ اس واقعہ کا تعلق بعد میں شدت پسند الیاس کشمیری پر ہونے والے ڈرون حملے سے بھی ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوشش کہ باوجود کمیشن کو ایسے ٹھوس شواہد نہیں ملے جو قاتل تک پہنچاتے ہوں۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق کمیشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ خواہ قاتل کوئی بھی ہو لواحقین کی خاطر خواہ مدد کی جائے اور اس سلسلے میں پہلے سے کیے گئے وعدوں پر بھی عمل درآمد کیا جائے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق یعنی جینے کا حق، اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا حق پامال ہوتے ہیں اور آئین میں قانون کی حکمرانی کا جوتصور دیا گیا ہے وہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کئی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

کمیشن نے یہ تجویز دی ہے کہ حساس اداروں کی ساکھ، اور ان پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ان کے کام کرنے کے طریقۂ کار میں مناسب تبدیلی لائی جائے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ حساس اداروں خاص طور پر آئی ایس آئی اور آئی بی کو قابل احتساب بنانے کے لیے خاطر خواہ قانون سازی کر کے ان کے کردار اور دائرۂ کار کا واضح تعین کیا جائے اور میڈیا سے ان کے رابطوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان رابطوں کا دستاویزی ریکارڈ مسلسل مرتب ہوتا رہے تا کہ بعد میں کسی حادثے کی صورت میں تحقیقات میں آسانی ہو۔

یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ حساس اداروں میں احتساب کے عمل کو مؤثر بنانے کی خاطر اندرونی نظر ثانی اور پارلیمانی نگرانی کا باقاعدہ نظام وضع کیا جائے اور عوام کی شکایت خاص طور پر میڈیا کی شکایت کے تسلی بخش ازالے کے لیے اس شعبے کے لیے مخصوص محتسب کا ادارہ بنایا جائے۔

کمیشن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ آئین کی رو سے عوام کے سامنے حقائق پیش کرنا چاہیے چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ قومی مفاد کے عین ہم آہنگ ہے۔

یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ صحافت کے شعبے کو قانون کے تابع لایا جائے اور اس میں احتساب کو یقینی بنایا جائے اورقانوناً مجاز اداروں کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ جائز شکایات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کرسکیں۔

اسی بارے میں