صدر کو استثنیٰ مانگنے کی ضرورت نہیں: اعتزاز احسن

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت صدر پاکستان کو اپنے خلاف فوجداری مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہے اور انہیں یہ استثنیٰ عدالت سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔

لاہور کی الحمراہ آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام ایک تصویروں کی نمائش کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو خود اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ ملک کے منتخب صدر پر الزامات ہیں اور انہیں عدالت سے استثنیٰ مانگنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماء نے کہا کہ آئین کے تحت صدر کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے اور نہ کسی کارروائی کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کے معاملے پر اعتزاز احسن نے کہا کہ اس بارے میں ان کا موقف اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے موقف سے برعکس ہے۔ ان کے بقول ویانا کنونشن کے تحت بھی صدر آصف علی زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے اس لیے ان کے خلاف سوئس عدالتوں کو خط لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں کو خط نہیں لکھا جائے گا۔

ممتاز قانون دان اعتزاز احسن نے اس بات کی تردید کی کہ حکومت نے ان کے ذریعے اعلیْ عدلیہ سے کوئی رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے ایماء پر مسلم لیگ نون کے ساتھ پس پردہ رابطوں کی اطلاعات کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ اطلاعات درست نہں ہیں کہ مسلم لیگ نون کے رہنما اسحاق ڈار اور ان کے درمیان کوئی ’بیک ٹریک ڈپلومیسی‘ چل رہی ہے۔

ایک سوال پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ وہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کو ٹکٹ کے لیے درخواست دے دی ہے۔

وکلاء تنظیموں کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلہ اور سپریم کورٹ بار کے صدر ہونے کے ناطے اعتزاز احسن نے دو ہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات میں جمع کرائے گئے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے تھے اور وکلاء دباؤ کی وجہ سے ضمنی انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔

اعتزاز احسن پہلے بھی بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں سینیٹ میں قائدِ حزب مخالف رہ چکے ہیں اور سنہ انیس سو ترانوے میں ہونے والے عام انتخابات میں لاہور سے شکست کے بعد وہ سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں