تمام ادارے اپنی حدود میں کام کریں: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ اجلاس ایک ایسے مرحلے پر ہوا ہے جب متنازعہ میمو کے معاملے پر فوجی اور سول قیادت کے درمیان کشیدگی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام ریاستی اداروں کو اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔

سنیچر کی شام کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے آغاز پر فوجی سربراہ کی موجودگی میں پڑھے گئے بیان میں وزیراعظم نے تمام ریاستی اداروں کو اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ۔

وزیراعظم نے کہا ’ہر ریاستی ادارے نے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہے تا کہ پاکستان کے قومی مفادات کو بہترین انداز میں فروغ دیا جا سکے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج قوم کی طاقت کا ایک ستون ہیں۔ قوم مادر وطن کے دفاع کے لئے ان کی جرات مندانہ خدمات کی معترف ہے۔

پاکستان کے دفاعی امور پر اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارے کے اجلاس میں پاکستانی سرحدی چوکی پر افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے حملے کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کو جانب دارانہ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اِس اجلاس میں اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ چھبیس نومبر کے سلالہ چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کی امریکی تحقیقات میں بعض اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔

کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی سے باخبر ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی تحقیقات کے بارے میں یہ مؤقف فوج کی جانب سے پیش کیا گیا جس کے ملٹری آپریشنز کے شعبے کے سربراہ نے امریکی تحقیقاتی رپورٹ کا مفصل تجزیہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا۔

فوج کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتحادی افواج اور امریکی تفتیشی رپورٹوں میں اسی افسر کے بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے جو اس روز سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث تھا اور دراصل خود ایک ملزم ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں فوج کے اس تجزیے کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم کہا گیا ہے کہ فوجی اور حکومت کا یہ رد عمل بہت جلد متعلقہ فریقوں اور میڈیا کو جاری کر دیا جائے گا۔

کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اس اجلاس میں وزیراعظم کے علاوہ سینئر وزیر، دفاع، خارجہ، داخلہ، خزانہ اور اطلاعات کے محکموں کے وفاقی وزرا موجود تھے جبکہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان کی جانب سے سلالہ حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور ان پر بین الاقوامی ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دفتر خارجہ کے حکام نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون کم کرنے اور افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو ترسیلات روکنے کے بعد بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور ان فیصلوں کو واپس لینے کی درخواست کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی حکومت اور پارلیمنٹ نے اس حملے کے بعد جو مطالبات امریکہ اور اتحادی افواج کے سامنے رکھے تھے وہ پورے نہیں کیے گئے جن میں سے ایک اس واقعے پر معافی مانگنے سے متعلق بھی ہے۔

اسی بارے میں