این آر او کیس:وزیراعظم کو توہینِ عدالت پر اظہارِ وجوہ کا نوٹِس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے یہ قرار نہیں دیا کہ وزیراعظم بدیانت اور کرپٹ ہیں بلکہ کہا کہ بادی النظر میں وہ اپنے حلف سے ایماندار نہیں رہے: جسٹس آصف سعید کھوسہ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے معاملے پر اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں انیس جنوری کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم پیر کو قومی مصالحتی آرڈیننس کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔

عدالت نے کہا ہے کہ وزیراعظم انیس جنوری کو خود عدالت میں پیش ہوں اور بتائیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

اس موقع پر عدالت میں موجود وزیرِ قانون مولا بخش چانڈیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو سپریم کورٹ کا نوٹس معمولی بات نہیں اور اس معاملے پر مشاورت کے بعد ردعمل دیا جائے گا۔

عدالت نے اظہارِ وجہ کا نوٹس اٹارنی جنرل آف پاکستان کے اس جواب کے بعد جاری کیا کہ انہیں سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں وزیراعظم یا صدر سے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اُنہیں ہدایات نہیں ملیں تو اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ جن افراد سے متعلق عدالت نے جو فیصلہ دیا تھا اُس پر اُنہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ یہ تاثر صحیح نہیں کہ چھ آپشنز حکومت کو دیے گئے بلکہ یہ آپشنز تو عدالت کے لیے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے منگل کے روز اپنے متفقہ فیصلے میں چیف جسٹس سے اس معاملے پر لارجر بینچ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے چھ آپشنز دی تھیں جن میں وزیر اعظم اور سیکرٹری قانون کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی، این آر او عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیشن کی تشکیل کے علاوہ اس معاملے کو عوام یا پارلیمان میں اُن کے نمائندوں کو سپرد کرنے کے بارے میں بھی بات کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے اس معاملے کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا تھا جس نے پیر کو اسلام آباد میں اس معاملے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ فیصلے کے بارے میں یہ غلط تاثر پیش کیا گیا کہ عدالت نے حکومت کو چھ آپشنز دیے ہیں جبکہ دراصل یہ آپشنز تو اس عدالت کے لیے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت نے یہ قرار نہیں دیا کہ وزیراعظم بدیانت اور کرپٹ ہیں بلکہ کہا کہ بادی النظر میں وہ اپنے حلف سے ایماندار نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ بہت باعزت ہے۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا عدالتی فیصلہ پڑھے بغیر اس پر تبصرے کیے جاتے رہے۔

سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین فصیح بخاری کے وکیل شائق عثمانی نے اُن کے موکل کی طرف سے دس جنوری کو موقف اپنانے پر معذرت کی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ نیب ملک قیوم، عدنان خواجہ اور احمد ریاض شیخ کے خلاف مزید کارروائی نہیں کر سکتا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ تحریری طور پر معافی نامہ لکھ کر دیں اس کے بعد دیگر معاملات کو دیکھا جائے گا۔

اس کے بعد معاملے کی سماعت انیس جنوری تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں