سکیورٹی فورسز پر حملہ، دس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اہلکاروں پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ حفاظتی چوکیاں قائم کررہے تھے

پاکستان کے صدبہ بلوچستان کے علاقے موسیٰ خیل میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پیر کی رات کو موسیٰ خیل کے علاقے بہلول بستی میں چاپ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ حفاظتی چوکیاں قائم کررہے تھے۔

سکیورٹی فورسز اور نامعلوم مسلح گروہ کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں آخری اطلاعات تک دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہلول کے مقام پر سکیورٹی فورسز پر حملے کے نتیجے میں اب تک دس حملہ آور مارے جاچکے ہیں جبکہ زخمیوں کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

لورالائی سے مقامی صحافیوں کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ رات گئے تک جاری تھا جس میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بہلول بستی کے مقام پر سکیورٹی فورسز اور بلوچ مزاحمت کاروں کے مابین جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے چودہ اہلکار ہلاک ہوئےتھے۔

کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چالیس سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ موسیٰ خیل اور چمالنگ کا علاقہ کوئلے کے ذخائر سے مالا مال ہے اور یہاں دو ہزار سات میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کوئلہ نکالنے کے ایک بڑے منصوبے پر کا آغاز ہوا تھا۔

زیادہ ترقوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ بلوچ علیحدگی پسندوں نےان منصوبوں کی شدید مخالفت کی تھی۔

اسی بارے میں