میمو کیس:’منصور اعجاز اب آئندہ ہفتے آئیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امکان ہے کہ اب منصور اعجاز اب آئندہ ہفتے چوبیس یا پچیس جنوری کو پاکستان پہنچیں گے

متنازع میمو معاملے کے مرکزی کردار اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز نے میمو عدالتی کمیشن کے سامنے پیشی کے لیے مزید مہلت طلب کی ہے۔

انہوں نے پیر کو سپریم کورٹ کے حکم پر متنازع میمو کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے اجلاس میں پیش ہونا تھا لیکن وہ پاکستان نہیں پہنچے۔

منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کمیشن کو بتایا کہ ان کے موکل کے متعلق وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک سے یہ بیان منسوب کیا جا رہا ہے کہ منصور اعجاز کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے پر غور ہو رہا ہے۔

اکرم شیخ کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کی جانب سے یہ بیانات سامنے آ چکے ہیں جن میں منصور اعجاز کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنے اور اس ضمن میں ملک کے آئین کے آرٹیکل چھ میں ترامیم کرنے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے وزیر داخلہ سے منسوب بیان کی تردید کی اور ساتھ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت منصور اعجاز کے پاکستان پہنچنے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

پاکستان میں منصور اعجاز کی سیکورٹی کے بارے میں اٹارنی جنرل نے کمیشن کو بتایا کہ سیکریڑی دفاع نے انھیں کہا کہ جس یونٹ کو ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ان کے کمانڈر سے براہ راست منصور اعجاز کے وکیل رابطہ رکھیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ منصور اعجاز کے وکیل اگر یہ سمجھیں کہ ان کی سیکورٹی ناکافی ہے تو ایسی صورت میں مزید انتظامات کرائے جاسکتے ہیں۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کمیشن کو بتایا کہ منصور اعجاز پاکستان نہ آنے کے لیے بہانہ تراش رہے ہیں۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق پیر کو کمیشن کے اجلاس میں منصور اعجاز کے پیش نہ ہونے پر کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔

منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے موکل چوبیس جنوری کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے جبکہ اٹارنی جنرل نے کمیشن کو بتایا کہ امریکی شہری منصور اعجاز پیر کو سوئٹرزلینڈ میں قائم پاکستان کے سفارت خانے میں ویزے کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔

سماعت کے دوران امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ منصور اعجاز کی پاکستان آمد کے بعد ان کو اس وقت تک واپس نہیں جانے دیا جائے جب تک متنازع میمو کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ہے۔ لیکن کمیشن نے حسین حقانی کے وکیل سے اتفاق نہیں کیا۔

گزشتہ پیر کو ہونے والی سماعت میں متنازع میمو سے متعلق تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ امریکی شہری منصور اعجاز کی حفاظت کے لیے فوج یا پولیس کا خصوصی دستہ تعینات کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی تیس تاریخ کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا تھا باوجود اس کے کہ اٹارنی جنرل اور حسین حقانی اس وقت کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بارہا آگاہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ پہلے ہی متنازعہ میمو کی تحقیقات کررہی ہے اور متنازعہ میمو کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ ہی موزوں فورم ہے۔

یہ آئینی درخواستیں پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف سمیت نو مدعیان علیہ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں عدالت سے اس معاملے کی فوری سماعت کے لیے استدعا کی گئی تھی۔ متنازعہ میمو کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کا اجلاس اب چوبیس جنوری کو ہوگا۔

اسی بارے میں