’پاکستان کے کہنے پر گراسمین کا دورہ منسوخ کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے کہنے پر افغانستان اور پاکستان کے خصوصی ایلچی گراسمین کا دورہ پاکستان منسوخ کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس بات کی تصدیق میڈیا کو بریفنگ کے دوران کی۔

مارک ٹونر نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’ہمیں بتایا گیا کہ پاکستانی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ خصوصی ایلچی کا دورہ اس وقت تک نہیں ہونا چاہیے جب تک پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی اپنی سفارشات پیس نہ کردے۔‘

واضح رہے کہ پاکستانی سرحدی چوکی پر نومبر 26 کو نیٹو حملے میں چوبیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو سفارشات پیش کرنے کا کہنا تھا۔

پارلیمانی کمیٹی نے پچھلے ہفتے اپنی سفارشات حکومت کو دی ہیں۔

ایک اور سوال پر کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے پر پاکستان امریکہ سے معافی کا مطالبہ کر رہا ہے، امریکی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ’جہاں تک مجھے علم ہے پاکستان میں نام نہاد پارلیمانی جائزہ لا جا رہا ہے۔ میں اس کے بارے میں مزید بات نہیں کر سکتا۔‘

ایک اور سوال پر کہ نیٹو کی رسد کے حوالے سے پاکستان نے نئے ٹیکس لاگو کرنے اور کسٹم کلیئرنس کا بھی نیا نظام متعارف کرانے کا سوچ رہا ہے جس کا ذکر پاکستان کی کمیٹی برائے دفاعی امور کے اجلاس میں بھی ہوا تھا، مارک ٹونر نے کہا ’مجھے نئے کسٹم ضوابط کے بارے میں علم نہیں ہے۔ پاکستان میں پارلیمانی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہم ان کی سفارشات کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

ان سے جو یہ سوال پوچھا گیا کہ کب امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب سے فون پر بات کی ہے اور اس پاکستانی وزیر خارجہ حنا کھر نے کہا کہ مستقبل میں پاکستانی فضائی حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے والے جہاز کو مار گرایا جائے گا، تو ترجمان نے کہا ’میں تصدیق کرتا ہوں کہ دونوں وزارءِ خارجہ کی بات ہوئی ہے۔ لیکن کیا بات چیت ہوئی اس کے بارے میں میں کچھ نہیں کہوں گا۔‘

اسی بارے میں