کوئٹہ: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف وکلاء کا احتجاج

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان میں اب تک ٹارگٹ کلنگ کے مخلفت واقعات میں چھ وکیل ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر حب میں سینیئر وکیل کی ٹارگٹ کلنگ میں ہلاکت کے خلاف وکلاء نے صوبے بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔

بدھ کو وکلاء نے عدالتوں کے بائیکاٹ کے دوران حکومت سے وکلاء کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلاء نے بدھ کو کوئٹہ سیمت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔

اس موقع پر بار کے تمام دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور وکلاء نے بھی ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

بلوچستان کےوکلاءنے یہ احتجاج سینیئر وکیل ملک صادق ایڈووکیٹ کی ہلاکت کے خلاف کیا، جنہیں نامعلوم مسلح افراد نے دو روز قبل پیر کو حب شہر میں فائرنگ کر کے شدید زخمی کیا تھا تاہم بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہپستال میں چل بسے۔

پولیس نے ملک صادق ایڈووکیٹ کی ہلاکت کو ٹارگٹ کلینگ قرار دیا ہے۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر داود خان کاسی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اگر وکلاء کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ پورے صوبےمیں عدالتوں کو تالے لگا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک عرصے بلوچستان میں وکلاء کا اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ایک معمول بن چکا ہےحالانکہ وکیل وہ طبقہ ہے جو معاشرے کو انصاف پہنچاتاہے لیکن جب ان کو انصاف نہیں ملتا ہے تو یہ معاشرے کے ساتھ ایک بڑی زیادتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران بلوچستان میں اب تک ٹارگٹ کلنگ کے مخلفت واقعات میں چھ وکیل ہلاک اور خضدار سے اغواء ہونے والے منیر میروانی ایڈوکیٹ تاحال لاپتہ ہے۔

جن کی بازیابی کے لیے وکلاء نے کئی بار احتجاج بھی کیاہے لیکن آج تک نہ تو وہ ایڈوکیٹ بازیاب ہو سکے اور نہ ہی وکلاء کی ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

اسی بارے میں