’نادیدہ قوتیں اب مجھے مار ہی دیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’ وہ نادیدہ قوتیں اب مجھے چھوڑیں گی نہیں بلکہ مار ہی دیں گی‘ یہ تھے وہ الفاظ جو مہمند ایجنسی کے سینیئر صحافی مکرم خان نے ہلاکت سے چند روز پہلے اپنے ایک ساتھی کو ٹیلیفون پر کہے تھے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صحافی مکرم خان عاطف پھر ان نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے جو آزاد صحافت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔

خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر مغرب کی نماز کے وقت ہلاک کیے جانے والے مکرم خان کو بدھ کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے لواحقین میں بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔

مکرم خان قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے حوالے سے خبریں اپنے ادارے کو بھجتے تھے لیکن ان علاقوں میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے انھوں نے شبقدر میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

مکرم خان کے ایک دوست نے بتایا چند دورز پہلے مکرم خان سے ٹیلیفون پر بات چیت ہو رہی تھی تو مکرم خان نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انھیں اب وہ قوتیں چھوڑیں گی نہیں بلکہ مار دیں گی۔ مکرم خان نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔

شبقدر میں ہی ایک دھماکے کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مکرم خان نے کہا تھا کہ یہ دھماکہ سڑک پر نصب بم سے کیا گیا ہے اور کیا پتہ کسی دن ان کے لیے بھی ایسا دھماکہ ہو کیونکہ ان کی زندگی کو بھی خطرہ ہے۔

قبائلی علاقوں میں صحافیوں کی تنظیم ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں صحافت کرنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ بعض تنظیموں کو اگر کسی ادارے کی پالیسی پسند نہیں آتی تو نشانہ پر مقامی صحافی ہی ہوتا ہے۔

مکرم خان ان دنوں پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز اور وائس آف امریکہ کے پشتو زبان کے ایک ریڈیو چینل ڈیوہ ریڈیو سے وابستہ تھے۔

انھوں نے صحافت کا آغاز نوے کی دہائی میں کیا تھا اور ابتداء میں کشمیر پریس انٹرنیشنل اور پشاور سے شائع ہونے والے روزنامہ جدت کے ساتھ وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے دیگر اخبارات کے ساتھ کام کیا۔

نائن الیون کے واقعہ کے بعد وہ ایک پاکستانی اور ایک غیر ملکی صحافی کے ساتھ افغانستان گئے تھے جہاں طالبان نے انھیں حراست میں لے لیا تھا اور کوئی تین ہفتے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

مکرم خان جماعت اسلامی کے رکن بھی رہے لیکن صحافت کے میدان میں متحرک ہونے کے بعد انھوں نے جماعت سے وابستگی ختم کر دی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان اس وقت دنیا بھر میں صحافیوں کے کام کے حوالے سے چوتھا خطرناک ملک سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سال دو ہزار گیارہ میں ایک سو تین صحافی کام کے دوران ہلاک کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں