کیا اعتزاز میچ وننگ کارڈ ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ agency
Image caption ملاقاتوں کے بعد ٹکراؤ کی صورت ختم ہوتی نظر آتی ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اعتزاز احسن کو توہین عدالت میں اظہارِ وجوہ کے نوٹس پر اپنا وکیل کیا ہے۔اس فیصلے سے یہ امکانات پیدا ہوتے نظر آتے ہیں کہ مختلف اداروں کے درمیان گزشتہ کچھ ہفتوں سے جو کشیدگی جاری تھی اس میں کمی ہونے کو ہے۔

آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے صدر کی حالیہ ملاقاتوں اور توہین عدالت کے مقدمے کو اعتزاز احسن کی جانب سے وزیراعظم کی وکالت کے فیصلے کے بعد سے صورتحال تبدیل دکھائی دے رہی ہے۔

ویسے تو صدر آصف علی زرداری اور اعتزاز احسن میں کئی معاملات پر اختلافات کی باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں لیکن ان کے درمیان ایک بار پھر قربت حال ہی میں پیدا ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب صدر آصف علی زرداری کی طبیعت خراب ہوئی تھی تو اس وقت انہوں نے اعتزاز احسن سے پچاس منٹ سے بھی زیادہ دیر فون پر بات کی تھی اور ایک بار لائن کٹ جانے کے بعد انہوں نے انہیں دوبارہ فون کرکے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو بلاول کی سیاسی سرپرستی ان کی ذمہ داری ہوگی۔

جس کے بعد اعتزاز احسن نے سارے شکوے بنا کہے ختم کیے اور ستائیس دسمبر کو گڑھی خدا بخش بھی گئے جہاں صدر آصف علی زرداری نے انہیں اپنے بعد خطاب کا موقع دے کر جہاں سب کو حیران کر دیا وہاں اس قربت میں جو تھوڑی بہت دوری تھی اُسے بھی مٹا دیا اور اعتزاز احسن نے آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے ٹکٹ کی درخواست بھی دے دی ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے بعض قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان اختلافات کے مواقع تو ماضی میں بھی آئے ہیں لیکن اعتزاز احسن کو پیپلز پارٹی نے کبھی آگے نہیں کیا کیونکہ یہ بات سب پیپلز پارٹی والے مانتے ہیں کہ اعتزاز احسن ان کا ’میچ وننگ کارڈ‘ ہے اور اس کا وقت آگیا ہے۔

اعتزاز احسن، جن کے لیے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ’نام ہی کافی ہے‘ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ میں ایسا نیا نکتہ پیش کریں گے جو شاید سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔

مبصرین کے نزدیکپاکستان کی طاقتور عدلیہ جو بارہا فوجی مداخلت روکنے اور کسی غیر آئینی قدم کی توثیق نہ کرنے کا اعلان کر چکی ہے وہ کبھی جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے کا الزام اپنے سر نہیں لےگی اور اعتزاز احسن کے آگے آنے کے بعد موجودہ کشیدہ صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔

اس کے بعد متنازع میمو کا معاملہ بچتا ہے تو وہ بھی حکومت اور عدلیہ کی کشیدگی سے ہی جڑا ہوا ہے اور جب وزیراعظم کی توہین عدالت کا معاملہ حل ہو جائےگا تو متنازع میمو معاملہ بھی حل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ متنازع میمو کے معاملے پر حکومت اور فوج میں پہلے ہی ایک حد تک ’مثبت پیش رفت‘ ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر زرداری نے اعتزاز احسن کو فون کر کے کہا کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے تو بلاول کی سیاسی سرپرستی ان کی ذمہ داری ہوگی

پہلے جس طرح وزیراعظم اور آرمی چیف نے ایک دوسرے کے خلاف کھل کر بیانات دیے اس سے تو گمان ہو چلا تھا کہ کسی بھی وقت ’میرے عزیز ہم وطنو‘ کی صدا سنائی دے سکتی ہے۔ لیکن اس کو روکنے کے لیے جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت اور ان کی اتحادی جماعتوں نے اپنا تمام زور لگایا وہاں مولانا فضل الرحمٰن اور میاں نواز شریف کو بھی کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے عین وقت پر جمہوری نظام کو بچانے والے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا۔

باوجود اس کے کہ مسلم لیگ نون میں اس سارے کھیل کے حوالے سے بہت تضاد پایا جاتا ہے لیکن پھر بھی میاں نواز شریف نے ’پوائنٹ سکوررنگ‘ سےگریز کیا۔ اس بات کا اندازہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

جب میاں شہباز شریف نے کھل کر آرمی چیف کی حمایت کی اور وزیراعظم سے آرمی چیف کے خلاف بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا تو اس وقت پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ نون کے اجلاس میں میاں نواز شریف نے واضح طور پر کہا کہ وزیراعظم کسی بھی ماتحت شخص کو ہٹانےکے مجاز ہیں اور آرمی چیف کو وزیراعظم کے خلاف پریس ریلیز جاری نہیں کرنی چاہیے تھی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ صدر آصف علی زرداری نے محمود خان اچکزئی، قاضی حسین احمد اور آفتاب احمد شیرپاؤ سے رابطہ کیا اور میاں نواز شریف سے رابطے کا چینل بحال کر کے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد پر بات چیت کا آغاز کیا۔

اس بات کی تصدیق چند روز قبل کراچی میں پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان سے ہونے والی ملاقات میں بھی ہوئی۔ منظور وسان نے بتایا کہ رواں سال اکتوبر میں عام انتخابات منعقد ہو سکتے ہیں اور حکومت سینیٹ کے انتخاب کے بعد ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات بھی کرانے پر غور کر رہی ہے۔

اسی بارے میں