’تحفظ نہیں دے سکتے تو بیان دبئی میں لیں‘

منصور اعجاز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منصور اعجاز کو چوبیس جنوری کو میمو تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش ہونا ہے

متنازع میمو معاملے کے مرکزی کردار امریکی شہری منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کہا ہے کہ اگر حکومت ان کے موکل کو عدالتی کمیشن کے ہدایت کے مطابق تحفظ فراہم نہیں کرتی تو ایسی صورت میں ان کا بیان دوبئی میں قلمبند کیا جائے۔

منصور اعجاز کو چوبیس جنوری کو اسلام آباد میں متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہونا ہے جس کے لیے لندن میں پاکستان کے سفارت خانے نے انھیں ویزہ جاری کر دیا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن نے نو جنوری کو سماعت کے موقع پر منصور اعجاز کے پاکستان پہنچنے پر سکیورٹی کے جو انتظامات طے کیے ہیں وہ(منصور اعجاز) اس سے زیادہ کچھ مطالبہ نہیں کرتے۔

انھوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن میں طے پائے جانے والے انتظامات کے تحت پاک فوج کے جوانوں کا ایک چھوٹا سا دستہ ان کے موکل اور ان کے پاس موجود آلات اور شواہد کی حفاظت کرے گا اور اس عمل میں کسی بھی پولیس افسر کا عمل دخل نہیں ہوگا تاہم اب حکومت اس ہدایت کے برعکس اقدام کر رہی ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ ڈی آئی جی اسلام آباد مجیب الرحمان نے انھیں سنیچر کی دوپہر ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ وزارت داخلہ کی طرف سے انھیں منصور اعجاز کی سکیورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی کمیشن میں یہ پیشکش کی تھی کہ وفاقی حکومت درمیان میں نہیں آئے گی اور وہ میرا ٹیلفون نمبر حفاظتی دستے کے انچارج کو دیں گے جو مجھ سے منصور اعجاز کے آنے جانے کے بارے میں معلومات لیں گے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ’منصور اعجاز یہ کہتے ہیں کہ عدالتی کمیشن کے پاس اختیار ہے اور اگر حکومت عدالت کمیشن کی ہدایت کے مطابق انھیں حفاظت فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی اور اس سے انحراف کررہی ہے تو عدالتی کمشین پاکستان کے حدود سے باہر دوبئی میں آ کر میرا بیان ریکارڈ کر لے‘۔

اکرم شیخ نے بتایا کہ انھوں نے پاکستانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف کو ایک خط لکھا ہے کہ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کا ایک نمائندہ بھی عدالت میں موجود تھا اور عدالت کا حکم ان پر بھی واجب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ’اگر آپ نے حکم عدولی تو میں اپنے موکل کی ہدایات کا انتظار کروں گا اور اگر میرا موکل کہے گا کہ میں آپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دوں تو میں آپ کے خلاف بھی توہین عدالت کی درخواست دوں گا‘۔

اکرم شیخ نے کہا کہ وہ اور ان کا موکل عدالتی کمیشن میں طے پانے والے سکیورٹی کے انتظامات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس میں نہ رینجرز کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی فرنٹئیر کانسٹیبلری کا اور نہ ہی کسی اور ادارے کا تذکرہ ہے۔

ادھر مقامی ٹی وی چینلز اٹارنی جنرل مولوی انوارلحق سے منسوب یہ بیان نشر کیا ہے کہ منصور اعجاز کو پاکستان میں فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

اسی بارے میں