’رسد کی فراہمی کے راستے بند کیے جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ایک جلسے میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے راستے مستقل طور پر بند کردیے جائیں۔

راولپنڈی میں لیاقت باغ میں ہونے والے اس جلسے میں جماعت الدعوۃ سمیت کئی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ بعض چھوٹی سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوئے۔

شرکت کرنے والوں میں پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ اور پاکستان کی فوج کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل بھی تھے۔

اس جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جو پاکستان کے مختلف علاقوں سے وہاں پہنچے تھے۔

اس موقعے پر کئی مقررین نے حکومت سےمطالبہ کیا کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے پاکستان سے رسد کی فراہمی کے راستے مکمل طور پر بند کردیے جائیں۔

انھوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اتحادی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے راستے بحال کیے جانے کی صورت میں احتجاج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعہ کو لاہور میں لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو تیل اور دوسری رسد کی فراہمی بحال کرنے کا معاملہ پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو بھیج دیا گیا ہے اور کمیٹی کی سفارشات پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلایا جائے گا اور پارلیمان اس پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس فیصلے کے پابند ہوں گے۔

26 نومبر کو پاکستان کی فوج کی سرحدی چوکی پر نیٹو کے حملے کے بعد پاکستان نے احتجاجاً افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے راستے بند کردیے تھے۔ اس حملے میں 26 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

مقررین نے ایک بار پھر یہ مطالبہ دھرایا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے الگ ہونے کی تاریخ دیں۔

اتوار کو راولپنڈی میں ہونے والے اس جلسے کا انعقاد دفاع پاکستان کونسل نامی تنظیم نے کیا تھا جس میں کئی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔

راولپنڈی میں ہونے والے اس جلسے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے حمائتیوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور جماعت الدعوۃ کے علاوہ اس جلسے میں سپاہ صحابہ کے جھنڈے بھی نظر آرہے تھے۔