بلوچستان: زیادہ تر علاقوں میں برفباری

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگ بڑی تعداد گھروں سے نکل کر برفباری سے لطف اندوز ہوتے رہے

کوئٹہ سمیت صوبے کے ذیادہ ترعلاقوں میں برفباری اور بارشوں کاسلسلہ دو دنوں سے جاری ہے جس کے باعث ایک طرف لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب افغانستان اور شمالی بلوچستان کا ملک کے دیگر حصوں سے بذریعہ سڑک رابطہ منقطح ہوگیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچرکے روز کوئٹہ ،چمن ، پشین، زیارت، قلات اور صوبے کے دیگرعلاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ شروع ہوا جواتوار کی رات تک جاری تھا۔

جس کے باعث کوئٹہ شہر میں فضاء خوشگوار ہوگئی اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں سے نکل کر برفباری سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

دوسری جانب کوئٹہ اور صوبے کے زیادہ ترپہاڑوں نے بھی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔جس کے باعث سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔لیکن اس کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے تفریح مقامات ہنہ اوڑک اورزیارت کا رخ کرلیا ہے۔

برفباری کے باعث ایک جانب گیس کی پریشر میں بھی کمی ہوئی تودوسری جانب بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشڈنگ میں اضافہ کردیاگیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بلکہ کئی اخبارات بھی بروقت نہ چھپ سکے۔

ادھر مستونگ، قلات ،منگوچر، چمن زیارت اورپشین میں برفباری سے مسافروں کو نہ صرف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کوژک کے مقام پردوفٹ سے زیادہ برفباری کے باعث دوسرے دن بھی افغانسان اور پاکستان کے درمیان سڑک کے راستے ٹریفک بند رہی اور سنکڑوں گاڑیاں سرحد کے دونوں پار رکی رہیں۔

خیال رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثرعلاقوں میں تقریبا چارسال بعد بڑے پیمانے پر برفباری ہوئی ہے اور زرعی ماہرین کے مطابق حالیہ برفباری سے نہ صرف اس سال زراعت کوبہت فائدہ ہوگا۔بلکہ طویل خشک سالی کے باعث زیر زمین پانی کی گری ہوئی سطع بھی اوپر آنے کا امکانات زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں