وزیرستان: ڈرون حملے میں پانچ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک گاڑی پر امریکی ڈرون حملے میں پانچ غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ پیر کی صبح ڈرون حملہ میرانشاہ سے کوئی تیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل کے علاقے دیگان میں ہوا ہے۔

اس حملے کے نتیجے میں پانچ غیر ملکی ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق ترکمانستان سے بتایا جاتا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملے میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ دیگان کے علاقے سے دتہ خیل کی جانب جا رہی تھی۔

حملے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی جس سےگاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ قریب ہی واقع ایک مکان کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند مقامی نہیں تھے۔

مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت فضا میں تین ڈرون طیارے پرواز کر رہے تھے۔

مقامی آبادی کے مطابق اس حملے کے بعد طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے شدت پسندوں کی لاشوں کو نامعلوم جگہ منتقل کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ جس وقت یہ حملہ ہوا اس وقت فضا میں تین ڈرون طیارے پرواز کر رہے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد یہ تیسرا حملہ ہے۔

گزشتہ سال چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں افغان سرحد پر واقع سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے حملے پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کو بھی بند کر دیا تھا اور اس کے علاوہ بلوچستان میں شمسی ائر بیس بھی امریکہ سے خالی کرا لی تھی۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ایک معمول بن چکا ہے۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں