’انتخابی فہرستوں کی تیاری آئندہ ماہ ممکن نہیں‘

الیکشن کمیشن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مئی کے آخر میں فہرستوں کی تیاری ممکن ہو گی: الیکشن کمشنر

پاکستان کے الیکشن کمشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت کے مطابق انتخابی فہرستوں کی تیاری آئندہ ماہ کی تئیس تاریخ تک ممکن نہیں ہے اور مئی کے آخر میں فہرستوں کی تیاری ممکن ہو گی۔

چیف الیکشن کمشنر حامد علی مرزا نے انتخابی فہرستوں کی تیاری کی تاریخ دیتے ہوئے ملک کی سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اس معاملے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

انہوں نے کہا ’الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور اس کے معاملات میں کوئی بھی رکاوٹ غیر آئینی ہو گی۔‘

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار عنبر شمسی نے بتایا کہ الیکشن کمشن نے پیر کے روز سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، نادرہ کے اہلکاروں اور میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس میں شفاف انتخابات کے عمل کو بہتر بنانے کی کوشش پر بات چیت ہوئی۔

اس اجلاس میں پندرہ بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں پیپلز پارٹی کے نیر حسین بخاری، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعات حسین اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا شامل ہیں۔

دوسری جانب سیکرٹیری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ نئی حتمی انتخابی فہرستیں پچیس مئی تک مرتب کی جائیں گی۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن ریاست کا اتنا ہی اہم انتظامی ادارہ ہے جتنا سپریم کورٹ ہے۔ تاہم بعض سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر جلد عمل درآمد ہونا چاہیے۔

اشتیاق احمد نے کہا کہ اجلاس میں شریک سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ الیکشن کمیشن کو اتنا ہی آزاد، غیر جانبدار اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں جتنا وہ سپریم کورٹ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

’اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ وہ الیکشن کمشن کے پیچھے اسی طرح کھڑے ہیں جس طرح سپریم کورٹ کے، اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ادارے قوم کی بھلائی کے لیے مل کر کام کریں۔‘

اجلاس میں مسلم لیگ نون، پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کا موقف تھا کہ فہرستوں کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ہی فروری تک مکمل کیا جائے۔

اجلاس میں موجود نادرا کے ڈپٹی چیئرمین طارق ملک نے بتایا کہ ان جماعتوں کا خیال تھا کہ ان فہرستوں کو پرانی مردم شماری کے مطابق بنایا جائے تو نئی لسٹ پندرہ دن میں تیار ہو سکتی ہے۔ ’انتخانی فہرستوں کو بنانے اور تصدیق کرنے کے لیے قوانین موجود ہیں جن کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘

تاہم، اجلاس میں شریک پاکستان مسلم لیگ (قاف) کے رہنما مشاہد حسین نے کہا کہ اس مشق کا مقصد شفاف انتخانی فہرستیں ہیں اور اس کے لیے اگر مزید وقت درکار ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

’اگر زمینی حقائق کچھ اور کہتے ہیں اور سرکاری حکم کچھ اور کہتا ہے تو اس خلیج کو پورا کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ مقصد صاف، شفاف، اور غیر متنازع انتخابی فہرستیں ہیں اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اگر کچھ ماہ کا ردوبدل ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘

فہرستوں میں تاخیر کی وجوہات بتاتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال، سیلاب، بارشوں اور ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے اتنخابی فہرستیں مئی سے قبل مکمل نہیں ہو پائیں گی۔

اس سے قبل الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ کو کہا تھا کہ یہ فہرستیں دسمبر دو ہزار گیارہ تک تیار ہو جائیں گی۔

یاد رہے کہ ، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ تئیس فروری تک نئی انتخابی فہرستیں مکمل کریں اور جب تک انتخابی فہرستیں تیار نہیں ہوں گی، اس وقت تک کوئی ضمنی انتخابات نہ کرائے جائیں۔

شاہ محمود قریشی، مخدوم جاوید ہاشمی، سردار آصف احمد علی، جہانگیر ترین، نواب محمد خان ہوتی کے قومی اسمبلی سے مستعفی ہوکر تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد ان نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نئی ووٹر فہرستوں میں آٹھ کروڑ چوون لاکھ ووٹرز کا اندراج ہوا ہے اور نادرا حکام کے مطابق اس میں ساڑھے چھتیس لاکھ ایسے نئے ووٹر شامل ہیں جن کے نام سنہ دو ہزار سات کی فہرست میں درج نہیں تھے۔

اسی بارے میں