مفت ادویات، مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

ادویات: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ادویات کو ٹیسٹ کے لیے بیرونِ ملک بھیج دیا گیا ہے

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سرکاری طور پر ملنے والی مفت دوائی کے ری ایکشن سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق غیر معیاری ادویات کے استعمال سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوّن ہو گئی ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سو افراد لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

ادھر ہسپتال کو دوائی فراہم کرنے والی دو مختلف ادویات ساز کمپینوں کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پنجاب کے سیکرٹری صحت جہانزیب خان نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک ایک سو پانچ ایسے مریض لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ملنے والی مفت دوائی کا ری ایکشن ہوا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں چند روز کے دوران ایسے مریضوں کو داخل کیا گیا ہے جن کے جسم کے حصوں سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔

علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرام نے بتایا کہ جن افراد کو جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے کی علامت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا وہ دل کے امراض کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیر علاج رہے ہیں اور مریضوں کو وہاں سے مفت دوائی ملتی رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دوائی کے ری ایکشن کی وجہ سے مریضوں کی ہڈی کا گودا بننا بند ہوگیا ، جسم پر دھبے پڑ گئے اور ان کے وائٹ سیل اور پلیٹ لٹس تیزی سے کم ہوگئے۔

پروفیسر جاوید اکرام کا کہناہے کہ ’ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کونسی دوائی کا ری ایکشن ہوا ہے تاہم چار قسم کی مختلف ادویات کو فوری طور پر استعمال کرنے سے روک دیا گیا‘۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئےصوبائی سیکرٹری جہانزیب خان نے بتایاکہ چھیالیس ہزار مریضوں کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے مفت دوائی دی جاتی ہے اور یہاں تمام مریضوں کا باقاعدہ اندراج ہے اس لیے ان مریضوں کو چار مختلف قسم کی ادویات کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر سعید الٰہی نے بتایا کہ آٹھ ہزار مریضوں کو ان کے فون نمبر پر اطلاع دی گئی ہے جبکہ باقی مریضوں کو دیگر ذرائع سے ادویات استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوائی کے ری ایکشن سے مرنے والے مریضوں سے جو ادویات لی گئی ہے ان کی جانچ کے لیے ان کے نمونے بیرون ملک بجھوائے جارہے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری کے مطابق ابتدائی طور پر مریضوں کو فراہم کردہ ایک دوائی کی رنگت بدلنے کی وجہ سے اس کمپنی کو سیل کردیا ہے کیونکہ دوائی کی رنگت تبدیل ہونا بھی دوائی کی خرابی کی ایک علامت ہے۔

ڈاکٹر سعید الہیْ کا کہنا ہے کہ ادویات کی ہسپتال میں مفت فراہمی سے پہلے ان کی جانچ کی جاتی ہے اور بقول ان کے مریضوں کو جو ادویات دی گئیں ان کی پہلے جانچ کی گئی تھی۔

صوبائی سیکرٹری جہانزیب خان نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے علاوہ آٹھ مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں جو اس تمام صورت حال کا جائزہ لیں گی۔

دوسری طرف ادویات ساز کمپنیوں کی تنظیم کے عہدیداروں نے حتمی رپورٹ آنے سے قبل ہی ایک فیکڑی کو سیل کرنے کی مذمت کی اور اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے عہدیدار ڈاکٹر ریاض احمد نے قانونی چارہ جوئی کا راستے اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ اس معاملے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں اور حکومتی سطح پر جو چھان بین کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں ان کی تنظیم کو نمائندگی دی جائے۔

دریں اثناء پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو مفت ادویات فراہم کرنے کے لیے معیاری ادویات ساز کمپنیوں کی دوائیاں استعمال کرنی چاہیئں۔ پی ایم اے کے عہدیداروں کا مطالبہ ہے کہ سستی اور غیر معیاری ادویات لے مریضوں میں مفت تقسیم نہ کی جائیں۔

اسی بارے میں