حقانی نیٹ ورک کا شدت پسندی کا مینوئل جاری

تصویر کے کاپی رائٹ

ایک جانب جب امریکہ افغان طالبان کے نزدیک ہونے کی براہ راست کوشش میں مصروف ہے، تو دوسری جانب طالبان گروپ کے سب سے فعال گروپ حقانی نیٹ ورک کی جانب سے شدت پسندوں کی تربیت کے لیے تفصیلی کتاب جاری کی ہے۔

’نظامی درسونہ‘ یا فوجی اسباق نامی پشتو زبان میں یہ کتاب ایک سو ساٹھ سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مصنف ابو عمر استالفی نامی کوئی شخص ہیں تاہم بظاہر یہ نام اصلی نہیں ہے۔ اس کتاب میں درج ہدایات کے مطابق اس کی فروخت اور عام لوگوں کو دکھانے سے منع کیا گیا ہے۔

حقانی نیٹ کا مینوئل، ویڈیو

بی بی سی اردو کو اس کتاب کی ایک کاپی موصول ہوئی ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ حقانی نیٹ ورک کے موجودہ سربراہ سراج الدین حقانی کی مالی معاونت سے شائع کی گئی ہے۔اس کا مقصد افغانستان میں فعال طالبان کو فائدہ پہنچانا ہے تاکہ وہ اپنی کارروائیوں میں زیادہ تیزی لاسکیں اور انہیں موثر بنا سکیں۔اس میں درج معلومات سے کتاب شائع کرنے والوں کے مطابق افغان عوام حملہ آور کو ایسا جواب دیں جو روسیوں کو بھی دیاگیا تھا۔

کتاب پر درج تاریخ اشاعت گزشتہ برس اکتوبر ہے۔ یہ تقریباً وہی وقت ہے جب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پہلی مرتبہ حقانی نیٹ ورک سے رابطوں کی تصدیق کی تھی۔

کتاب کی ابتداء میں تفصیل سے جہاد کی ضرورت قرآنی آیات اور احادیث کی مدد سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جہاد کی اقسام بھی واضح کی گئی ہیں۔

اس کتاب میں جنگی تربیت دینے والے اساتذہ اور طلبہ کے انتخاب کے لیے ہدایات درج ہیں۔ اس موقع پر جاسوسوں سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ جنگجوؤں کے لیے بالغ شخص چنے کی بات کی گئی ہے لیکن عام تاثر یہ ہے کہ شدت پسند کم عمر لڑکوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ منتخب افراد میں صبر کی خوبی ضروری قرار دی گئی ہے اور انہیں جعلی نام اور پتہ ظاہر کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

جنگی اسباق میں سب سے پہلے شیخ اسامہ، دوسرے نمبر پر ملا محمد عمر اور تیسرے نمبر پر حکمت یار گروپ میں شمولیت کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر چھوٹے گروپوں میں شمولیت بھی جائز قرار دی گئی ہے۔

درسی کتاب میں نقشوں اور تصاویر کے ذریعے گاڑیوں، طیاروں اور ٹینکوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے وار کرنے کے بہترین مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ افغانستان میں اگرچے ریل گاڑی نہیں لیکن اس کی پٹریوں کو نشانہ بنانے کی بھی تربیت شامل ہے۔

امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سراج الدین حقانی ہی افغانستان میں موجود طالبان کو تربیت، اسلحہ اور خودکش حملہ آور مہیا کرتے ہیں۔

چند ماہ قبل کابل میں بھارتی سفارت خانہ پر جو خودکش حملہ ہوا تھا،اس وقت بھی امریکہ اور بھارت نے الزام لگایا تھا کہ مولانا جلال الدین حقانی کی مدد سے ہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی’ آئی ایس آئی‘ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ تاہم پاکستان نے بارہا اس الزام کی تردید کی تھی۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

پست قامت سراج الدین حقانی کا سرحد کے آرپار سرگرم طالبان میں اثرو رسوخ بہت زیادہ ہے اور انہوں نے ہمیشہ طالبان گروپوں کے اندرونی اختلافاتات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اس کتاب کی اشاعت سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ جنگی تربیت پر بھی اپنی زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔