خیر ایجنسی سے نقل مکانی شروع

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں کشیدگی جاری ہے۔ تحصیل باڑہ میں شدت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور اب تک کوئی ڈیڑھ ہزار خاندان نوشہرہ کے قریب قائم جلوزئی کیمپ پہنچ چکے ہیں جبکہ لنڈی کوتل کے قریب ایک سکول کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انفرادی طور پر ان کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ ہے اور نقل مکانی کرنے والے افراد کا تعلق شلوبر قمبر خیل قوم سے ہے اور ان افراد کو جلوزئی کیمپ میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نقل مکانی کا سلسلہ چار روز سے جاری ہے اور اس وقت بھی متاثرین کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔

چند ماہ پہلے بھی خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں آپریشن سے متاثر ہو کر کوئی چار ہزار خاندان نقل مکان کرکے جلوزئی کیمپ پہنچے تھے جو اب تک اسی کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے پشاور اور اس کے مضافات میں کرائے کے مکان حاصل کرکے رہائش اختیار کی ہے۔

نقل مکان کرکے جلوزئی کیمپ پہنچنے والے ایک نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کہ بیشتر افراد گھر بار چھوڑ کر مشکل سے جلوزئی کیمپ پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں گولہ باری سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے لوگوں سے علاقہ خالی کرنے کا کہا جس کے بعد نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔

نوجوان نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس کچھ رقم تھی وہ گاڑیوں پر پہنچے اور بیشتر غریب افراد ایسے تھے جو پیدل سفر کرنے پر مجبور تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے شلوبر کے علاقے سے ایک ہی راستہ ایسا تھا جہاں سے سفر کیا جا سکتا تھا اور یہاں پر کہیں گاڑیاں دستیاب تھیں اور کہیں لوگ پیدل سفر کرتے رہے۔

خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہیں جہاں سکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری تنصیبات پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ چند روز پہلے جمرود کے علاقے میں بم دھماکے میں تیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ گزشتہ روز شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں دو خاصہ دار ہلاک ہو گئے تھے۔