منصور اعجاز کو آخری موقع، نو فروری کو طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اس قضیے کے اہم کردار امریکی شہری منصور اعجاز کا بیان بیرون ملک ریکارڈ کرنے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں نو فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا ہے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن کا کہنا ہے کہ چونکہ وفاقی حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ منصور اعجاز کی سکیورٹی کے لیے فوج، اسلام آباد پولیس ، رینجرز اور فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے اس لیے منصور اعجاز کا بیان بیرون ملک جاکر ریکارڈ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

کمیشن نے منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ سے کہا کہ اگر اُنہیں یا اُن کے موکل کو کوئی خدشات ہیں تو وہ اٹارنی جنرل سے بات کریں تاکہ اُن کے خدشات کو دور کیا جاسکے۔

کمیشن نے اپنے حکم میں یہ بھی لکھوایا ہے کہ منصور اعجاز کے پاکستان آنے کی صورت میں کمیشن کے سیکرٹری کو اُن کے ساتھ جہاز کے اندر ہی ملاقات کروائی جائے کیونکہ اُن ( منصور اعجاز ) کے وکیل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اُن کے موکل کے پاس جو ثبوت ہیں اور جو وہ کمیشن کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ سرکاری اہلکار اُن سے چھین لیں گے یا پھر اُنھیں ضائع کردیں گے۔

منصور اعجاز کے وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ اُن کے موکل کو ایسے کسی بھی ادارے کی سکیورٹی پر اعتبار نہیں ہے جو براہ راست وزارت داخلہ کے ماتحت ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکل اور وزیر داخلہ کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ اگر قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بھی منصور اعجاز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق کہے گی تو وہ اس سے متعلق کمیشن کو آگاہ کریں گے۔اُنہوں نے مختلف اخبارت میں چھپنے والے اس بیان کی تردید کی جس میں وزیر داخلہ سے منسوب یہ بیان شائع ہوا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کے کہنے پر منصور اعجاز کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جائے گا تاہم اس ضمن میں رحمان ملک کسی اخبار میں چھپنے والی تردید کو کمیشن کے سامنے پیش نہ کرسکے۔

کمیشن نے وزیر داخلہ رحمان ملک، منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ اس میمو سے متعلق میڈیا سے کوئی بات نہیں کریں گے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے اپنا وقت بڑھانے کی بھی درخواست کرے گا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت کمیشن کو ایک ماہ میں تحققیات مکمل کرکے سپریم کورٹ میں رپورٹ کرنے کے بارے میں بھی کہا گیا تھا جو اس ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔

آئندہ سماعت پر عدالتی کمیشن امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی درخواست کی سماعت کرے گا جس میں کہا گیا ہے کہ منصور اعجاز کے پاکستان نہ آنے کی صورت میں وہ اپنا بیان دینے کے حق سے محروم ہو جائے گا۔

قبل ازیں وزیر داخلہ رحمان ملک نے کمیشن کو یقین دہانی کروائی کہ منصور اعجاز کے کمیشن کے سامنے پیش ہونےاور اُنہیں باحفاظت بیرون ملک روانہ کرنے کے لیے فوول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی اور اُن کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں نہیں ڈالا جائے گا۔

اسی بارے میں