مفت ادویات:تحقیقات شروع، ہائی کورٹ میں بھی رٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے: درخواست گذار

لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ستر سے زائد مریضوں کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے علاوہ پولیس نے بھی شروع کر دی ہیں۔ جبکہ لاہورہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور کے دل کے ہسپتال میں مزید دو مریض آج دم توڑ گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے پولیس کے ایک ڈی آئی جی کو معاملے کے فوجداری پہلوؤں کا انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔

پولیس نے سفارش کی ہے کہ ہلاک ہونے والے مریضوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگا دی جائے۔ محکمہ صحت اپنے طور پر الگ سے تحقیقات کررہی ہے۔

علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ یہ دوا دیگر ہسپتالوں میں بھی سپلائی کی گئی تھی لیکن شکایت صرف اس کھیپ کی آئی جو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بھجوائی گئی تھی۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ باقی دوا ٹھیک نکلی ہے البتہ اس کھیپ کی ادویات کی مزید جانچ کی جا رہی ہے جس کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ڈینگی میں آٹھ سو افراد کی ہلاکت کے باوجود صوبے میں کسی کو وزارت صحت کا قلمدان دینے کو تیار نہیں ہیں اور خود اس وزارات کو چلانے کی ناکام کوشش میں مزید لوگوں کی ہلاکت کا باعث بنے ہیں۔

واضح رہے کہ ستر سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع ملنے کے بعد پنجاب کے ہسپتالوں میں زیر علاج متعدد مریضوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے اور لوگ سرکاری ادویات استعمال کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔

حکومت پنجاب نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو کہا ہے کہ جن ادویات پر شک ہے ان کا اجراء تمام ہسپتالوں سے روک دیا گیا ہے ۔ البتہ دیگر ادویات انسانی صحت کے لیے محفوظ ہیں اور مریض انہیں استعمال کرتے ہوئے نہ گھبرائیں۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریضوں کی ہلاکت کی انکوائری کے لیے ایک عدالتی تحقیقاتی کمشن بنایا جائے جو مکمل انکوائری کے بعد جن افراد کو ملزم قرار دے ان کے خلاف کم از کم قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ درخواست پر کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی ہے۔