ادویات ری ایکشن: ہلاکتیں بڑھ کر100 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں اب بھی ڈھائی سو کے قریب مریض زیر علاج ہیں جن میں سے ستر کی حالت نازک ہے: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن

پنجاب میں کچھ ادویات کے استعمال سے ہلاک ہونے والے دل کے مریضوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ہے اور مریضوں کی ہلاکت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پراسرار بیماری سے ہلاک ہونے والے تمام مریضوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے علاج کرایا تھا اور وہیں سے مفت سرکاری ادویات حاصل کی تھیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اظہار چودھری کے مطابق لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں اب بھی ڈھائی سو کے قریب مریض زیر علاج ہیں جن میں سے ستر کی حالت نازک ہے اور ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

لاہور کے علاوہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں بھی اسی مرض کے شکار دل کے مریض سرکاری ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر اظہار نے کہا کہ ادویات کے تجزیہ کی رپورٹ کا انتظار ہے اگر یہ علم ہوجائے کہ بیماری کس دوائی کی وجہ سے ہے تو اس کا توڑ نکالا جا سکتا ہے۔

میو ہسپتال کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر ارشاد حسین قریشی کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کے گودے کی بحالی کے لیے سٹریرائڈ کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور اب تک پچیس سے زیادہ مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں اور باقی مریضوں کی حالت بھی سنبھل رہی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو تک جاپہنچی اور مریضوں کے علاج میں غفلت اور مریضوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

پنجاب اسمبلی میں صحت کے پارلیمان سیکرٹری ڈاکٹر سعید الہی نے بتایا کہ مشکوک ادویات کے نمونے تجزیے کے لیے لندن اور پیرس بھجوائے گئے ہیں اور ان کی روپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ جن پانچ ادویہ ساز اداروں کی دوا پر شک ہے ان میں سے تین کے مالکان کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ دو کمپنیوں کے مالکان کراچی میں ہیں جن کی گرفتاری کے لیے سندھ حکومت سے رابطہ کیا جارہا ہے۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی کمشن بنانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور حکومت سمیت متعلقہ حکام کو تیس جنوری تک جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت میں درخواست دہندہ کے وکیل نے کہا کہ اب تک سوافراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن حکومت پنجاب تاحال ذمہ داروں کا تعین نہیں کرسکی اس لیے ایک عدالتی کمشن بنا کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

پنجاب میں اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف اس معاملے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ان کہنا کہ اس کی ذمہ داری براہ راست وزیراعلی پنجاب پر عائد ہوتی ہے جن کی وجہ سے چار برس سے پنجاب میں کوئی وزیر صحت نہیں ہے اور وزیراعلی پنجاب دیگر نو وزارتوں سمیت اس وزارت کا قلمدان بھی خود سنبھالے بیٹھے ہیں۔