کرم ایجنسی، جھڑپوں میں آٹھ اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تازہ ترین واقعے میں آٹھ مزید سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔

پشاور میں فرنٹیر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب وسطی کرم ایجنسی کے علاقے جوگی میں سرچ آپریشن کے دوران مسلح شدت پسندوں نےسکیورٹی فورسز پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں کم سے کم آٹھ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی جوابی کارروائی کی۔ فورسز نے مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی تاہم ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے دستے تین دن پہلے جوگی کے علاقے میں داخل ہوئے تھے اور اس دوران زیادہ تر علاقے کو کلیئر کردیا تھا۔

ان کے مطابق دو دنوں سے علاقے میں سرچ آپریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے اور کئی ٹھکانوں کو محفوظ بنادیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی جوگی کے مقام پر ہونے والے طالبان کے ایک حملے میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ جوابی حملے میں تیرہ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تقریناً دو ماہ قبل وسطی کرم کے علاقے میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف آپریشن کا اغاز کیا تھا تاہم ابھی تک علاقے کو مکمل طور پر کلئیر نہیں کیا جاسکا۔

اس آپریشن کی وجہ سے سینکڑوں افراد نے بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں یا اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ہاں پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں