خراب ادویات، پوسٹ مارٹم لازمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

حکومتِ پنجاب نے مفت ملنے والی سرکاری ادویات کے استعمال کے بعد ہلاک ہونے والوں مریضوں کا پوسٹ مارٹم لازمی قرار دے دیا ہے اور حکومتی فیصلے کے بعد ہسپتالوں کی انتظامیہ نے دوائی کے استعمال کی وجہ سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کرنے کی بجائے پولیس کی تحویل میں دینا شروع کر دی ہیں۔

ادھر لاہور میں مقامی عدالت نے ادویہ ساز اداروں کے ان تین مالکان کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ روز کی توسیع کر دی ہے جنہیں مبینہ طور مضر صحت ادویات بنانے کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔

پنجاب میں اب تک کم از کم ایک سو آٹھ افراد ایک پراسرار بیماری کاشکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بیماری صرف دل کے ان مریضوں کو لاحق ہوئی جنہوں نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کروایا تھا اور مفت دوا حاصل کی تھی۔

پنجاب حکومت کے احکامات کے بعد ہلاک شدگان کے پوسٹ مارٹم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور حکومت نے سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ بھی شکیل دیا ہے اور پوسٹ مارٹم کے لیے اس میڈیکل بورڈ کی اجازت ضروری ہے۔

نامہ نگار عباد الحق کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاک مریضوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد جسم کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ ہلاکتیں دوائی کی وجہ سے ہو رہی ہیں یا اس کی کوئی اور وجہ ہے۔

لاہور کے ایک نجی ہسپتال کی انتطامیہ نے جمعہ کی صبح دم توڑنے والے ایک مریض حاجی منیر احمد کی لاش ان کے لواحقین کو دینے سے انکار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچاس کے قریب مریض ایسے ہیں جنہیں انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے

مرنے والے کے ایک قریبی رشتہ دارطاہر خان کا کہنا ہے کہ ’ہسپتال والوں کو کہا کہ لاش دے دیں تو انہوں نے کہا کہ پولیس ہی لاش واپس کرے گی کیونکہ پنجاب حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ مرنے والے کی لاش لواحقین کے حوالے نہ کی جائے‘۔

ادھر قانونی ماہرین نے بھی حکومت کی طرف سے مریضوں کا پوسٹ مارٹم کروانے کے اقدام کو درست قرار دیا ہے اور فوجداری قانون کے ماہر مبشر رحمان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ مریضوں کی ہلاکت کی وجہ جاننے میں انہتائی مددگار ثابت ہوگی۔

مبشر الرحمان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں یہ تصدیق ہوجاتی ہے کہ موت غیر معیاری دوائی کی وجہ سے ہوئی ہے تو حکومت کے علاوہ مرنے والوں کے لواحقین بھی اس رپورٹ کی روشنی میں قانونی چارہ جوئی بھی کر سکتے ہیں۔

دریں اثناء وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جمعہ کو ادویہ ساز اداروں کے ان تین مالکان کو عدالت میں پیش کیا جن کی ادویات پی آئی سی کے لیے خریدی گئیں اور مریضوں کو مفت فراہم کی گئیں۔

ایف آئی اے نے اعظم طاہر، محمد نادر اور محمد وسیم کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا تھا۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق عدالت میں ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ایک ملزم کی دوا بنانے کے لائسنس کی معیاد ختم ہوچکی تھی لیکن وہ پھر بھی ادویات بنا رہا تھا۔ اسی طرح دوسرے ملزم سے دو لاکھ چالیس ہزار ایسی گولیاں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ وہ مضر صحت ہیں اور وہ ہی مریضوں کی ہلاکت کا سبب بنی ہیں۔

عدالت نے ملزموں کو ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔ عدالت نے پہلے بھی ان ملزموں کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔

لاہور کے ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جن کے ناک منہ سے خون بہنا شروع ہوگیا ہے اور طبی ماہرین کے مطابق ان کے خون میں سفید خلیے بننا بند اور ہڈیوں کے گودے کی نمو رک چکی ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پچاس کے قریب مریض ایسے ہیں جنہیں انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے اور ان کی حالت نازک ہے۔

میو ہسپتال آنے والے درمیانی عمر کے ایک مریض نے بتایا کہ انہیں ایک ڈیڑھ مہینے سے بہت کمزوری محسوس ہو رہی تھی اور ہر کوئی کہہ رہا تھا صحت گر رہی ہے اور وہ ہسپتال پہنچے تو انہیں علم ہوا کہ یہ سب مضر صحت ادویات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مفت ادویات پیکٹ میں ملتی تھیں لیکن کچھ عرصے سے کھلی ادویات دی جا رہی تھیں۔

پنجاب اسمبلی میں بھی ایک سو سے زائد ہلاکتوں پر اپوزیشن اراکین کا حکومت پنجاب کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اپوزیشن اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف خود ایوان میں آکر اس بیماری کے بارے میں اراکین اسمبلی کو بیان کریں۔

اسی بارے میں