ادویات کا اندراج: ذمہ دار کون؟

ہسپتال میں مریض تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹھارہویں آئینی ترمیم کی وجہ سے وزارت صحت ختم کر کے صحت کے معاملات صوبوں کو دیے گئے ہیں اور صوبوں کے پاس تمام معاملات سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے اور کسی صوبے نے تاحال ‘ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم نہیں کی: ڈاکٹر عاصم

سینیٹ میں جمعہ کو پنجاب میں مبینہ طور پر امراض قلب کی بعض جعلی ادویات کی وجہ سے ایک سو سے زائد ہلاکتوں پر ہونے والی بحث کے دوران بتایا گیا کہ لاہور کے شیخ زید ہسپتال کی ملکیت پر وفاقی اور پنجاب حکومت میں تنازعہ کی وجہ سے پاکستان میں گزشتہ اکیس ماہ سے ‘ڈرگز ریگولیشن اتھارٹی‘ کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

قانونی طور پر یہ ابہام پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں ادویات سازی، ان کا اندراج اور ریگولیشن کے اختیارات کس کے پاس ہیں: وفاقی حکومت یا صوبوں کے پاس؟

چیئرمین سینیٹ فاروق نائک نے معاملہ کابینہ کی کمیٹی کو سپرد کرتے ہوئے دس روز میں جواب طلب کیا ہے۔

پیٹرولیم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے جو ایک بڑا نجی ہسپتال بھی چلاتے ہیں کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی وجہ سے وزارت صحت ختم کر کے صحت کے معاملات صوبوں کو دیے گئے ہیں اور صوبوں کے پاس تمام معاملات سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے اور کسی صوبے نے تاحال ‘ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ آج پنجاب میں جعلی ادویات کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی ہیں کل کسی اور علاقے میں ہوسکتی ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں جعلی ادویات بنتی ہیں اور کچھ ڈاکٹر کمیشن لے کر جعلی دوائیں لکھ دیتے ہیں اور ان سارے معاملات کا جائزہ لے کر قانون سازی ہونی چاہیے۔

مسلم لیگ (ق) کی نیلو فر بختیار نے بھی اٹھارہویں آئینی ترمیم پر تنقید کی اور کہا کہ یہ عجلت میں منظور کی گئی اور ایک جماعت نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے وفاقی سے اختیارات صوبوں کو دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلچر منسٹری ختم کرکے ’ہیریٹیج منسٹری‘ قائم کی گئی ہے جبکہ وہ تمام ادارے جو کلچر کے پاس تھے اب نئی وزارت کے پاس ہیں۔ یہ قوم سے مذاق ہے۔

جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے کہا کہ ہلاکتیں ڈینگی سے ہوں یا جعلی ادویات سے، یہ پنجاب میں ہو رہی ہیں اور کسی صوبے میں نہیں ہیں اس لیے ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے ’ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی‘ کا اختیار وفاقی حکومت کو دینے کا فیصلہ کیا لیکن پنجاب کے نمائندے نے اس پر عمل نہیں کیا اور ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے اور یہ کسی کو حق نہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کو گالی دے۔

اٹھارہویں ترمیم تیار کرنے اور مرکز سے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ میاں رضا ربانی نے کہا کہ مرکزیت پسند ذہنیت رکھنے والے آج تک اٹھارہویں ترمیم کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اس ترمیم کی وجہ سے جو صوبوں کے حقوق وفاق نے غصب کر رکھے تھے وہ صوبوں کو مل گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کا آخری مرحلہ آیا اور شیخ زید ہسپتال پنجاب کے حوالے ہونی تھی تو وفاقی حکومت نے انکار کیا اور معاملات لٹک گئے۔ ان کے بقول یہ طے ہوا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے ’ڈرگز ریگولیشن اتھارٹی‘ وفاقی حکومت کے پاس ہوگی اور اس کے لیے چاروں صوبائی اسمبلیاں قرارداد منظور کریں گی۔ لیکن شیخ زید ہسپتال کی ملکیت پر تنازعہ کی وجہ سے پنجاب حکومت نے قرارداد منظور نہیں کرائی اور معاملا آگے نہیں بڑھ سکا۔

سینیٹر اسحٰق ڈار نے کہا کہ وفاقی حکومت شیخ زید ہسپتال کا معاملہ حل کرے تو ایوان کو پنجاب حکومت کی جانب سے یقین دلاتے ہیں کہ ‘ڈرگز کنٹرول اتھارٹی’ کے حق میں پنجاب اسمبلی سے وہ فوری قرارداد منظور کرادیں گے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر کاظم خان اور متحدہ قومی موومنٹ کے طاہر مشہدی نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، یہ انسانی مسئلہ ہے اور جو بھی جعلی ادویات کی وجہ سے ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے انہیں سزا ملنی چاہیے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ پاکستان میں ادویات ساز کمپنیاں بھاری منافع کماتی ہیں اور جعلی دوائیں بنانا ان کا معمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ متعلقہ حکام اور ڈاکٹرز کو رشوت دیتی ہیں اور ماضی میں پنجاب کے سابق گورنر الطاف حسین بھی جعلی دوا سے فوت ہوئے تھے۔

نکتہ اعتراضات پر جب بحث طویل ہونے لگی تو چیئرمین سینیٹ نے یہ معاملا کابینہ کمیٹی کو بھیجتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ دس روز میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔