’پاکستان کو سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذہبی طبقے کو جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا ہے اور ملک کے تمام وسائل عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے مفادات پر استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ساٹھ فیصد بجٹ دفاع پر خرچ ہو رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات کراچی میں جمعہ کو منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کراچی میں قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے قریب واقع میدان جو کبھی ویران ہوتا تھا اب سیاسی اکھاڑا بن چکا ہے۔ یہاں پہلے عمران خان اور پرویز مشرف نے جلسے منعقد کیے اور جمعہ کو مولانا فضٰل الرحمان نے خطاب کیا۔

پچھلے دو جلسوں کے مقابلے میں اس جلسے میں لوگوں کی تعداد زیادہ دیکھی گئی اور اس میں دینی مدراس کے اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج مذہبی طبقے کو جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسے انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مذہبی لوگ انتہاپسند ہیں تو ابوغریب جیل اور گوانتانامو جیل میں قیدیوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا گیا وہ کس زمرے میں آتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ ’جے یو آئی جلسے بڑے کر لیتی ہے پر ووٹ کیوں نہیں لے سکتی؟ ہم انہیں کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ ہٹ جائے تو دیکھیں کیسے ووٹ ملتے ہیں‘۔

مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ ’جب عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی امریکہ کو ضرورت ہوتی ہے تو انہیں بڑھا چڑھاکر لایا جاتا ہے تاہم اگر وہ ان کے مفادات پورے نہ کریں تو نئے لوگ ڈھونڈے جاتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ مستحکم جمہوریت لانی ہے تو صاف شفاف انتخابات ہونے چاہیئیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں انیس سو ننانوے کے بعد جمیعت علمائے اسلام کا یہ پہلا بڑا جلسہ تھا

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں انیس سو ننانوے کے بعد جمیعت علمائے اسلام کا یہ پہلا بڑا جلسہ تھا۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قیام کے بعد جے یو آئی نے کراچی میں سرگرمیاں محدود کردیں تھیں صوبہ خیبر پختون خواہ میں جمعیت علما اسلام کی حکومت تھی اور کراچی غیر اعلانیہ طور پر جماعت اسلامی کے حصہ میں آتھا تھا مگر اس جلسے نے یہ بھی واضح کردیا کہ جمیعت اپنا حصہ الگ رکھنا چاہتی ہے۔

اس جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی بھی زیر تنقید رہی جس نے خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت بنائی ہے اور کراچی میں صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں حاصل کی ہیں جو اس سے پہلے جمعیت علمائے اسلام کے پاس تھیں۔

جلسے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ نیٹو کی سپلائی معطل رکھی جائے، امریکہ کے بارے میں خارجہ پالیسی واضح ہو۔ اس کے علاوہ مقررین نے امریکہ میں قید سائنسدان ڈاکٹر عافیہ کی پاکستان کی حوالگی اور وطن واپسی پر پرویز مشرف کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی بارے میں