نادرا ملازمین کی ایف آئی اے مخالف ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے خلاف سندھ اور بلوچستان میں قومی رجسٹریشن کے ادارے نیشنل ڈیٹا رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے ملازمین نے مکمل ہڑتال کردی ہے۔ ایف آئی اے نے عبدالرحمان ملک کے نام سے سم کے اجرا کی تصدیق کرنے کے الزام میں نادرا کے سات ملازمین کو گرفتار کیا تھا۔ نادرا ملازمین نے ایف آئی اے کا لنک بھی ڈاؤن کردیا ہے۔

پاکستان کے ایک نجی نیوز چینل نے پاکستان میں موبائل سم کارڈوں کے اجرا کے طریقے کار کے حوالے سے رپورٹ نشر کی تھی، جس میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے شناختی کارڈ کی کاپی کی بنیاد پر ان کے نام سے سم کارڈ حاصل کیا گیا، جس کی اسی نمبر سے نادرا سے تصدیق کرانے کے بعد ایکٹیویٹ بھی کرایا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے چینل کی رپورٹ کا نوٹس لیا اور ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم جاری کیا، جس نے نادرا کے ایک ڈپٹی مئنیجر سمیت نو ملازمین کو گرفتار کرلیا، جنہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نادرا کے ملازمین نے جمعہ کو سندھ اور بلوچستان کے تمام رجسٹریشن مراکز بند کردیئے اور مطالبہ کیا کہ تشدد میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کو معطل کیا جائے بصورت دیگر ہڑتال کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلایا جائے گا۔

سندھ بھر کے ملازمینِ نادرا شاہراہ فیصل پر واقع عوامی مرکزی میں جمع ہوئے، جہاں سے جلوس کی صورت میں نادرا کے صوبائی ہیڈکوارٹر گئے جس دوران پولیس نے انہیں منشتر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

نادرا کے چیئرمین علی ارشد حکیم بھی کراچی پہنچ چکے ہیں، جن سے ملازمین کے مذاکرات جاری ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ادارے کا سرکاری ملازمین کے ساتھ عادی مجرموں جیسا رویہ کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان ملازمین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کے لیے ووٹر لسٹوں کی تیاری کے سلسلے میں وہ پہلے صبح سے رات گئے تک کام کر رہے ہیں اور ان کی چھٹیاں معطل کردی گئی ہیں اور اس کا حکومت نہ یہ صلہ دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سٹیزن پولیس لیژان کمیٹی (پولیس اور شہریوں کے درمیان رابطہ کمیٹی) نے نادرا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت انہیں اگر کسی ملزم کا رکارڈ چاہیے ہوگا تو نادرا اس تک رسائی مہیاء کرئے گی اور اسی طرح بینکوں کو بھی یہ سہولت حاصل ہوگی۔

یاد رہے کہ کراچی میں اغوا کی وارداتوں میں شہریوں اور پولیس میں رابطہ کاری کے لیے سٹیزن لیژان کمٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

اسی بارے میں