خراب ادویہ:ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں پانچ سو کے قریب مریض اب بھی زیرِعلاج ہیں

حکومتِ پنجاب نے سرکاری ہسپتال سے ملنے والی مفت ادویات کے استعمال سے ہونے والی اموات کے ذمہ دار افراد کا سراغ لگانے کے لیے معاملے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ملنے والی مفت ادویات کے استعمال سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو نو تک پہنچ گئی ہے۔ سنیچر کو بھی لاہور کے سروسز ہسپتال میں تین ایسے مریضوں نے دم توڑا جنہوں نے یہ دوائیں استعمال کی تھیں۔

وزیراعلٰی پنجاب نے ان ہلاکتوں پر صوبائی سیکرٹری صحت اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر افسر بکارِ خاص یا او ایس ڈی بنا دیا ہے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کےمطابق شہباز شریف نے سنیچر کو اعلان کیا کہ ادویات سے ہونے والی ہلاکتوں پر صوبے کی اعلٰی عدلیہ سے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے گی اور اس مقصد کے لیے لاہور ہائی کورٹ کو درخواست دی جائے گی۔

وزیراعلٰی پنجاب نے ہدایت کی کہ ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے ڈی آئی جی پولیس میجر(ریٹائرڈ) مبشر کی تفتیشی رپورٹ اور وزیراعلٰی معائنہ ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج سے مجوزہ جوڈیشل کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔

ڈی آئی جی میجر( ریٹائرڈ) مبشر کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے سنیچر کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے فارماسسٹ اور سٹور کیپر کو شامل تفتیش کر کے ان سے پوچھ گچھ کی اور ان دونوں اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ لاہورہائی کورٹ کی جوڈیشل انکوائری کے نتائج کے مطابق تمام ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے جوڈیشل انکوائری میں تمام انتظامی محکموں کو لاہور ہائی کورٹ کی معاونت کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انہوں نے سنیچر کو ہی میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ’ قوم سے وعدہ ہے کہ تحقیقات کی ایک ایک چیز عوام کے سامنے لائی جائے گی اور کڑا احتساب ہوگا‘۔

ادھر وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے ان ہلاکتوں کی تفتیش کے لیے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دے دی ہے جو پہلے سے تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے کی ٹیم کی معاونت کرے گی۔

ایف آئی اے کی مانیٹرنگ ٹیم نے سنیچر کو لاہور پہچنے کے بعد پہلا کام چھان بین کرنے والی ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ مل تفتیش میں حصہ لیا اور دوا تیار کرنے والی کمپنوں کے زیر حراست مالکان سے سوالات بھی کیے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر سعید الہی نے پولیس تفتیش کے بارے میں بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے شواہد اور ضروری مواد اکٹھا کرلیا ہے اور اب صرف ادویات کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹوں کا انتظار ہے۔

ڈاکٹر سعید الہیْ کے مطابق اس وقت آٹھ مختلف قسم کی تحقیقاتی ٹیمیں اپنی چھان بین کر رہی ہیں اور جہاں تک انضباطی کیمٹی کا تعلق ہے تو اس کی رپورٹ اتوار رات تک حکومت کو پیش کردی جائےگی۔

دوسری طرف پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی چٹھی کا جواب دے دیا ہے اور ایف آئی اے کو آگاہ کیا کہ وزیر اعلیْ پنجاب کے حکم پر غیر معیاری ادویات کے بارے میں تمام ریکارڈ سربمہر کردیاگیا اور جیسے ہی اس ریکارڈ کو کھولا جائے تو انہیں متعلقہ معلومات فراہم کردی جائیں گا۔

حکام کے مطابق اس وقت پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں پانچ سو کے قریب مریض زیر علاج ہیں اور سنیچر کو مزید تین مریض سروسز ہسپتال میں دم توڑ گئے اور یوں اب مرنے والوں کی تعداد ایک سو نو ہوگئی ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری صحت پنجاب ڈاکٹر سعید الہیْ کے مطابق زیر علاج مریضوں میں کچھ مریضوں کی حالت بھی نازک ہے اور ان پر ادویات اثر نہیں کررہی۔انہوں نے بتایا کہ ایسے مریضوں کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جارہا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری صحت نے بتایا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈریالوجی کی طرف سے دی جانے والی دوا نوے فیصد مریضوں سے واپس لے لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک تیس فیصد مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔

اسی بارے میں