شکیل آفریدی کے معاملے پر سب ہی خاموش!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی اسامہ بن لادن کے گھر کے نزدیک اس گھر میں رہائش پذیر تھے

پاکستانی حکام القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکہ کو معلومات فراہم کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔

پاکستان کی جانب سے آخری مرتبہ سرکاری طور پر ڈاکٹر شکیل کے بارے میں یہ اطلاع آئی تھی کہ وہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور امریکی کارروائی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور پھر سرکاری طور پر ہی یہ خبر آئی کہ اسی کمیشن نے ڈاکٹر شکیل کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرنے کا کہا ہے۔

اس کے بعد ہوا کیا؟ پاکستانی حکام اس بارے میں چھپ سادھے ہوئے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع لیئون پنیٹا جو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے وقت سی آئی اے کے سربراہ تھے، سنیچر کو امریکی ٹی وی نیٹ ورک کے ساتھ انٹرویو میں سیدھا سیدھا کہہ گئے کہ ڈاکٹر شکیل نے ہی تو اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی تھیں۔

ساتھ ہی انھوں نے ڈاکٹر آفریدی کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے برتاؤ کو ایک غلطی بھی کہا۔

پاکستان میں بھی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی حراست کی خبریں سامنے آنے کے بعد سے بعض حلقوں میں یہ سوال بار بار اٹھ رہا ہے کہ جب پاکستان دہشگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور بین الااقوامی برادری کے ساتھ ہے تو پھر ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جو کچھ بھی کیا اسے جرم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے تو ایک طرح سے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں پاکستان، امریکہ اور بین الاقوامی برادری کا ہاتھ بٹایا ہے۔

لیکن پاکستان کی نہ تو منتخب حکومت اور نہ ہی طاقتور فوج کی جانب سے اس بارے میں کوئی واضح موقف سامنے آیا ہے۔

اتوار کو بی بی سی نے جب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سےمعلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے جواب دیا:’میرے علم میں اس حوالے سے کچھ نہیں ہے، بہتر یہی ہوگا آپ متعلقہ محکمے سے بات کریں۔‘

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستان کے فوجی حکام کی تحویل میں ہیں۔ لیکن پاکستانی فوج بھی اس بارے میں کوئی بات کرنے سے گریزاں ہے۔

اسی دوران ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حق میں بعض افراد نے انٹرنیٹ پر ایک پٹیشن بھی اپ لوڈ کی ہے جس میں ان کی زندگی کے بارے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور ان کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس پٹیشن پر دستخطوں کا ہدف دس ہزار مقرر کیا گیا ہے لیکن اب تک درجن بھر افراد نے ہی اس پٹیشن پر دستخط کیے ہیں۔

اسی بارے میں