’فیصلےافغانوں نے خود کرنے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان افغانستان میں قیام امن کی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے: ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے جامع مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے جس میں تمام فریق شامل ہوں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری ابتدائی مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’ہماری ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں آسکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں تمام فریق شامل ہوں۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو شدت سے احساس ہے کہ جو بھی عمل شروع ہو اس کی سربراہی خود افغانستان کرے۔’ باہر کی دنیا اس عمل میں سہولت فراہم کرسکتی ہے لیکن فیصلے افغانوں نے خود کرنے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے جو بھی کوشش ہوگی پاکستان اس کی حمایت کرے گا۔

اس سوال پر کہ کیا امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے پاکستان کو اعتماد میں لیا تھا، تو وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پچھلے تین چار سالوں میں پاکستان کا افغانستان میں جو کردار رہا ہے وہ مثبت رہا ہے اور پاکستان نے ہر فورم پہ افغانستان میں مصالحت اور مذاکرات کی بات کی ہے۔

اس سوال پر کیا طالبان اور امریکہ کو قریب لانے میں پاکستان کا کوئی کردار رہا ہے تو وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ یہ ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں کھلے عام بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان افغانستان کی خواہش کے مطابق کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا کہ طالبان اور امریکہ کے مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا لیکن کوشش یہی ہے کہ اس مصالحتی عمل کا اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے۔

انہوں نے کہا کہ افعانستان میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ ایسا مصالحتی فارمولہ سامنے آئے جس پہ تمام افغان خواہ وہ کسی بھی لسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی بھی نکتہ نظر رکھتے ہوں وہ تمام اس فارمولہ پر اتفاق کریں۔

اسی بارے میں