خیبر ایجنسی سے دو لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقامی افراد کے مطابق ان دونوں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر اسلام سے ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک مارکیٹ کے قریب سڑک کنارے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

خیبر ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح تحصیل باڑہ کے علاقے قمبرآباد میں مقامی انتظامیہ نے دونوں لاشوں کی شناخت کی ہے جس کے مطابق ایک کا نام سید عمر اور دوسرے کا جلال خان ہے اور دونوں کا تعلق مقامی قبائل سے ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق اہلکار نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ان کو کیوں ہلاک کیا گیا البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد ایک ہفتہ قبل نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ سے سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔

مقامی افراد کے مطابق ان دونوں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر اسلام سے ہے۔

جلوزئی کیمپ کے انچارج نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں علم نہیں کہ ان دونوں کو کس نے اغواء کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سُننے میں آیا تھا کہ کیمپ سے دو افراد اغواء ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ ایک سال سے غیر اعلانیہ کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور شدت پسندوں کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنتے ہیں۔

دریں اثناء خیبر ایجنسی کے متاثرین نے پیر کو پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبر ایجنسی کےمتاثرین کو آئی ڈی پیز کا درجہ دیا جائے۔

اسی بارے میں