کراچی میں تین افراد ہلاک

کراچی میں واردات تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں ایک وقفے کے بعد اِضافہ دیکھا گیا ہے

کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں، پولیس نے ان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے بتایا ہے۔

یہ واقعہ پیر کی شب نارتھ ناظم آباد میں پاور ہاؤس چورنگی کے قریب پیش آیا ہے۔ بلاول کالونی کی پولیس کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ پہنے ہوئے موٹر سائیکل سواروں نے ایک جیپ پر فائرنگ کی جس میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن کی شناخت عرفان، عادل اور عدنان کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین متحدہ قومی موومنٹ کے ہمدرد تھے اور یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے ایک اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری لوگوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کی وارداتوں کا نوٹس لیا جائے۔

اس سے پہلے فیڈرل بی ایریا میں نامعلوم مسلحہ افراد کی فائرنگ میں تاثیر عباس نامی شخص ہلاک ہوگیا، جس کی نماز جنازہ دو روز قبل ہلاک ہونے والے ڈاکٹر محسن جعفر کے ساتھ ادا کی گئی، اس موقعے پر مشتمل افراد نے انچولی اور آس پاس کے علاقے میں ہنگامہ آرائی کی، گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور ٹائروں کو نذر آتش کر کے ٹریفک کو معطل کردیا۔

بعض مشتعل افراد نے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک ویڈیو کیمرہ بھی توڑ دیا۔ بعد میں دونوں مقتولین کی وادی حسین قبرستان میں تدفین کی گئی۔

ایک دوسرے واقعے میں رات کو لیاری کے علاقے بہار کالونی میں ایک ہوٹل پر کریکر پھینکا گیا ہے جس میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد ہوٹل کے قریب پہنچے اور کریکر پھینک کر فرار ہوگئے۔ اس واقعے میں غفور، اجمل اور یوسف نامی افراد زخمی ہوگئے ہیں جنہیں مقامی ہپستال پہنچایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں جاری لوگوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات کا ازخود نوٹس لینے کے بعد ایسے واقعات میں کمی دیکھی گئی تھی، جس میں ایک وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں