لاہور ادویات: سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

لاہور تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرنے والوں کی تعداد ایک سو چودہ تک پہنچ گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور سے ملنے والی ادویات کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کا از خود نوٹس لیا ہے۔

ادھر ان ادویات کے ری ایکشن سے مزید دو مریض جان کی بازی ہارگئے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد ایک سو چودہ تک پہنچ گئی ہے۔

از خود نوٹس پر کارروائی کے لیے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں بنچ تشکیل دیا ہے جو منگل کو ابتدائی سماعت کرے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق نے بتایا کہ چیف جسٹس نے یہ از خود نوٹس سپریم کورٹ کے جج جسٹس تصدق حسین جیلانی کی نشاندہی پر لیا۔

سپریم کورٹ نے از خود نوٹس پر کارروائی کے لیے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے علاوہ متعلقہ حکام کو منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے مبینہ طور پر غیر معیاری ادویات سے ہونی والی ہلاکتوں پر صوبائی سیکرٹری صحت اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے حکام کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست نمٹاتے ہوئے پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ درخواست مقامی شہری احمد رضا نے رانا انتظار ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی تھی جس میں کہاگیا کہ غیر معیاری ادویات کی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں مریض ہلاک ہوئے لیکن ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ سیکرٹری صحت پنجاب سمیت دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

ادھر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ادویات سے اموات کی عدالتی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل ٹربیونل تشکیل دے دیا ہے۔

چیف جسٹس نے یہ ٹربیونل پنجاب حکومت کی اس درخواست پر دیا جس میں ادویات کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ معلوم کرنے اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے جوڈیشل انکوائری کرانے کی استدعا کی گئی۔

دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے اتوار کے روز تحویل میں لیے گئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے معطل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جعفر کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا ۔

ادھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے پر ہڑتال کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ تنظیم کے مرکزی عہدیدار ڈاکٹر سلمان کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے انہیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سینیئر ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے لاہور کے تمام آؤٹ ڈورز میں آج ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سروسز ہسپتال میں دوا کے ری ایکشن سے پیر کو مزید دو مریض ہلاک ہوگئے اور اب تک مرنے والوں کی تعداد ایک سو چودہ ہوگئی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹروں کے خلاف ہونے والی کارروائی پر ایک اہم اجلاس طلب کیا جو کل لاہور میں ہوگا اس اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ تنظیم نے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔

دریں اثناء پنجاب اسمبلی میں دوا کے ری ایکشن سے ہونے والی ہلاکتوں پر پیر کے روز بھی ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا۔ صوبائی اسمبلی میں حزب مخالف وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں