بگٹی پوتی قتل:تحقیقاتی ٹیم تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں براہمداغ بگٹی کی بہن کے قتل کی تحقیقات کے لیے صدرِ پاکستان کی ہدایت پر اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی میں بلوچستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی عثمان بلوچ ایڈوکیٹ کے نکتہ اعتراض کے جواب میں کہی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے اور اس میں بلوچستان کے سینیئر پولیس افسران بھی شامل ہیں۔

رحمان ملک نے رکن قومی اسمبلی عثمان ایڈوکیٹ کو پیشکش کی کہ وہ اگر چاہیں تو انہیں بھی کمیٹی میں شامل کرنے کو تیار ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ بیرون ملک سے بعض بلوچ تنظیموں کو فون آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کے لیے کیا گیا ہو؟

انہوں نے بتایا کہ حملے میں ایک بچی بچ گئی ہے اور تفتیش میں اس کی مدد سے لی جا رہی ہے۔ ’یہ لوگ اپنے عزیز کے گھر سے نکلے تو ایک سو گز کے فاصلے پر ان پر حملہ کیا گیا۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ پہلے بلوچستان کی جیلوں میں قید لوگ بھی وارداتیں کراتے رہے ہیں اور حال ہی میں کالعدم سپاہ صحابہ اور بلوچ لبریشن آرمی میں تعاون کے ثبوت بھی ملے ہیں۔

واضح رہے کہ پیر کو رات گئے کراچی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن صاحبزادہ بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کو ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل عثمان بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بختیار ڈومکی جو کہ سبی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے نواسے ہیں اور ان کی اہلیہ نواب اکبر بگٹی کی پوتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا اور ایسا لگتا ہے کہ جس طرح بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو اغوا کے بعد قتل کیا جاتا ہے اور اس کا پتہ نہیں چلتا اس کیس کا بھی وہی حشر ہوگا۔

اسی بارے میں