پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے پر واک آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے پر قومی اسمبلی میں احسن اقبال اور دیگر نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی

پاکستان میں پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کے بعد اپوزیشن کی جماعتوں نے علامتی واک آؤٹ کیا۔

مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کرکے مہنگائی کا بم گرایا ہے۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں حکومت نہیں بڑھاتی بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد ’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی‘ (اوگرا) فیصلہ کرتی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحٰق ڈار نے وزیر کا عذر رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈیولپمینٹ لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں عوام پر جو بوجھ ڈال رہی ہے اُسے کم کیا جاسکتا ہے لیکن حکومت نے یہ آمدنی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

قومی اسمبلی میں احسن اقبال اور دیگر نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکوت کی بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر پیٹرولیم پر تنقید کی کہ انہوں نے تین روز پہلے ہی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا جس سے کئی شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل پہلے ہی مہنگا کردیا گیا۔

واضح رہے کہ ’اوگرا‘ ہر ماہ کی یکم اور پندرہ تاریخ کو عالمی منڈی کے مطابق قیمتوں میں ردو بدل کرتی ہے۔ حکومت کے مطابق انہوں نے گزشتہ ایک ماہ سے عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کے باوجود ملک میں قیمتیں نہیں بڑھائیں لیکن ب ان کی مجبوری ہے۔

یکم فروری کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر پانچ روپے سینتیس پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل چار روپے چھیالیس پیسے، ہائی اوکٹین چھ روپے انتیس پیسے، لائٹ ڈیزل تین روپے تینتالیس پیسے، مٹی کا تیل دو روپے اٹھہتر پیسے اور ایل پی جی چودہ روپے فی کلو اضافہ کیا گیا۔

جبکہ سی این جی پر دس فیصد انفرا سٹرکچر سرچارج عائد کیے جانے سے بلوچستان اور پوٹھوہار ریجن میں اس کی قیمت چھہتر روپے انیس پیسے اور سندھ پنجاب میں انہتر روپے ساٹھ پیسے فی کلو گرام ہوگئی ہے۔

ایوان بالا میں اپوزیشن کی پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کے خلاف پیش کردہ تحاریک التواء پر بحث ہوگی۔ بدھ کو ایوان بالا میں ایک موقع پر جب وزیر پیٹرولیم موجود نہیں تھے تو اراکین نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور چیئرمین سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ جو وزراء بناء اطلاع ایوان میں حاضر نہیں ہوتے ان کو سزا دی جائے۔

چیئرمین سینیٹ کو بتایا گیا کہ وہ کسی وزیر کو پرچم کے بغیر گاڑی میں گھومنے، ایوان کی کارروائی میں شرکت نہ کرنے سمیت مختلف سزائیں دینے کے مجاز ہیں۔ چیئرمین نے اس معاملے پر اپنی رولنگ محفوظ کرلی۔

اسی بارے میں