سپریم کورٹ میں دوبارہ بھی جاؤں گا: گیلانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی میں بیان دے رہے تھے۔

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پہلے بھی طلب کیے جانے پر وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور اب نئے حکم پر بھی وہ عدالت کے سامنے حاضر ہوں گے۔

جرم ثابت ہونے پر وزیر اعظم نااہل: قانونی ماہرین

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ ’اگر ہم اداروں کا احترام نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔‘

انہوں نے کہا ’ہم نہیں چاہتے کہ اس ملک میں اداروں کو کمزور کریں اور جتنا بھی ہوسکتا ہے، اور جتنا بھی ہوا ہے اور جتنا اس دور میں آپ نے آئین کا تحفظ کیا ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اگر اپوزیشن کی کوئی تجاویز ہوں گی تو انشاء اللہ ہم اس کی حمایت کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرح ہم بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔

’ہر شخص کو آئین کی پاسداری کرنی چاہیے، اور اگر 73 کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام ادارے اپنا اپنا کام کریں گے تو کسی قسم کی کوئی تنقید نہیں ہوگی۔‘

وزیر اعظم نے اپنی یہ بات دہرائی کہ تمام ادارے پارلیمینٹ کو جوابدہ ہیں اور اس لیے جو بھی پارلیمینٹ چاہے گی ہم وہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

قبل ازیں پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو تیرہ فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا جہاں ان پر توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

عدالت نے یہ حکم جمعرات کی صبح سماعت کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں دیا تھا۔

این آر او عملدرآمد مقدمے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم پاکستان کو توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کے بعد وہ انیس جنوری کو عدالت میں حاضر بھی ہوئے تھے جہاں انہیں مزید حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔

جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وزیراعظم گیلانی کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت حکم دے گی تو سوئس حکام کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں خط لکھ دیا جائے گا جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو بارہا کہا جا چکا ہے کہ خط لکھا جائے لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت کی عزت بچائی جائے کیونکہ اگر یہ خط لکھا جائے اور سوئس عدالتوں میں کوئی کارروائی نہ ہو تو پھر عدالت کی عزت پر بھی حرف آئے گا جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’آپ یہ چاہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگوں کے سامنے ہم بےعزت نہ ہوں جبکہ اپنے لوگوں کے سامنے بے شک بےعزت ہوتے رہیں‘۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اگر حکومت سوئس حکام کو خط لکھتی ہے تو سوئس عدالتوں میں اس کے کیا نتائج نکلیں گے اور بہرحال سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کا فیصلہ اس پر واضح ہے کہ این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کے خلاف اس وقت سے مقدمات بحال کیے جائیں جب یہ لاگو ہوا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت کی عزت بچائی جائے کیونکہ اگر یہ خط لکھا جائے اور سوئس عدالتوں میں کوئی کارروائی نہ ہو تو پھر عدالت کی عزت پر بھی حرف آئے گا جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگوں کے سامنے ہم بے عزت نہ ہوں جبکہ اپنے لوگوں کے سامنے بے شک بے عزت ہوتے رہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق سمری لکھی گئی تو اس وقت کے سیکرٹری قانون نے اس کو سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو نہیں بھجوایا اور جب عدالت نے ان سے پوچھا تو انہوں نے استعفٰی دے دیا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ جو سمری لکھی گئی ہے اس میں سیکرٹری قانون نے رائے دی ہے کہ سوئس عدالتوں میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف معاملہ ختم ہوچکا ہے اس لیے خط لکھنے کی ضرورت نہیں جبکہ وزیرِ اعظم کہہ رہے ہیں کہ صدر کو استثنٰی حاصل ہے حالانکہ سمری میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو جو سمری بھیجی گئی اس پر انہوں نے عملدرآمد کیا ہے اور اس پر وزیرِاعظم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی نہیں بنتی، ’انہیں جو رائے دی گئی انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا اس لیے شک کا فائدہ وزیراعظم کو ہی ملنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی حکومتوں اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی دو مرتبہ وزرائےاعظم کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی جرنیل کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی نہیں کی گئی۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ سارا معاملہ وفاقی حکومت کی جانب سے این آر او مقدمے میں پیروی نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس معاملے میں سوئس مقدمات کو بھی لایا جائے گا۔