حافظ سعید سے ایک ملاقات !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حافظ سعید کے مطابق پاکستان کو اندرونی سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں

بدھ یکم فروری کو جماعت الدعوہ کے سربراہ اور نوتشکیل دفاعِ پاکستان کونسل کے رہنما حافظ محمد سعید نے چند صحافیوں کو غیر رسمی ملاقات کے لیے مدعو کیا۔

اس کا مقصد دفاعِ پاکستان کونسل کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ’صلاح مشورہ‘ کرنا تھا۔

دفاعِ پاکستان کونسل کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق اور مرکزی کنوینر آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل ( ریٹائرڈ )حمید گل ہیں۔

کونسل میں جماعتِ الدعوہ (جسے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور بھارت نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا ہے اور پاکستان میں بھی یہ سرکاری طور پر زیرِ نگرانی ہے) کے علاوہ جماعتِ اسلامی، مجلسِ احرار، اعجاز الحق کی مسلم لیگ (ضیا)، شیخ رشید احمد کی عوامی مسلم لیگ، آئی جے آئی اور مہران گیٹ سکینڈل فیم جنرل اسلم بیگ کی عوامی قیادت پارٹی، علامہ ابتسام الہی ظہیر کی جمعیتِ اہلِ حدیث اور اہلِ سنت والجماعت (عرف کالعدم سپاہِ صحابہ) شامل ہیں۔

دفاعِ پاکستان کونسل کے لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں بڑے جلسے ہوچکے ہیں۔ لاہور کے جلسے میں عمران خان کی تحریکِ انصاف کی نمائندگی بھی ہوئی۔ جبکہ ملتان کے جلسے میں کالعدم لشکرِ جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق نے بھی شرکت کی۔ اگلا جلسہ کراچی میں ہونے والا ہے۔

دورانِ ملاقات حافظ سعید نےخیال ظاہر کیا کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کا گھیراؤ کر کے اس کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو واحد مسلمان ایٹمی طاقت ہونے کی سزا دینا چاہتا ہے۔ جبکہ بھارت تو پاکستان کا ازلی و ابدی دشمن ہے اور اب وہ کشمیر کے دریاؤں پر ’بہتر‘ ڈیم باندھ کے پاکستان کو سکھا سکھا کر مارنا چاہتا ہے اور پاکستان ہے کہ انڈیا کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے کر اس کے آگے بچھا چلا جارہا ہے۔

لہذا قوم کو ان خطرات سے مقابلے کے لیے جگانے اور کمر بستہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور دفاعِ پاکستان کونسل کا یہی مشن ہے۔ اس کے کوئی سیاسی و انتخابی عزائم نہیں۔

اس کے بعد دوطرفہ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا اور جلد ہی گفتگو سوال و جواب کے روایتی سیشن میں تبدیل ہوگئی۔ ایک صاحب نے تجویز دی کہ بھارت پر اگر آپ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بھارت کے بیس کروڑ مسلمانوں کو منظم کیا جائے تاکہ وہ اپنے ملک کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوسکیں۔

اس پر حافظ سعید نے کہا کہ بھارت کا مسلمان میڈیا دفاعِ پاکستان کونسل کے پروگرام اور جلسوں کو سراہتا ہے اور کوریج دے رہا ہے۔ (تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بھارت کا کون سا مسلمان میڈیا سراہ رہا ہے)۔

ایک رائے یہ آئی کہ بھارت اگر کشمیری دریاؤں پر بند باندھ رہا ہے تو مسئلہ کیا ہے۔ ان منصوبوں سے کشمیری مسلمانوں کو بھی تو فائدہ پہنچےگا۔

ایک سوال یہ آیا کہ دفاعِ پاکستان کونسل میمو گیٹ کے دوران تشکیل دی گئی۔ کیا زرداری حکومت کی رخصتی کی صورت میں بھی دفاعِ پاکستان کونسل برقرار رہے گی؟ ایک صاحب نے پوچھا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو اگر امریکہ کی گود میں بٹھایا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بٹھایا اس وقت کوئی دفاعِ پاکستان کونسل کیوں نہیں بنی ؟

ایک سوال یہ ہوا کہ پاکستان کے تحفظ کی ذمہ داری مسلح افواج پر عائد ہوتی ہے چنانچہ دفاع ِ پاکستان کونسل کی ضرورت کیوں پیش آگئی۔ کیا آپ کو مسلح افواج کی اہلیت پر اعتماد نہیں رہا؟

حافظ سعید کچھ سوالوں کے جواب میں مسکرادیے، کچھ خوبصورتی سے ٹال گئے اور کچھ کے بارے میں کہا کہ ہر شے بدظنی اور شکوک و شبہات کی عینک سے نہیں دیکھنی چاہیے۔

پورے سیشن میں دشمنی، لڑائی، سازش، جنگ، ایٹمی قوت، خطرہ، جہاد جیسے الفاظ تو تکرار کے ساتھ سننے میں آتے رہے تاہم افہام و تفہیم، امن، مساوی تعلقات، ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت، آئین و قانون، امن و امان، اندرونی خود مختاری جیسے الفاظ کو کان ترس گئے۔

قریباً چالیس منٹ کے سیشن کے بعد مہمانانِ صحافت چائے سموسے میں مصروف ہوگئے اور حافظ صاحب کو بھی محسوس ہوگیا کہ مربوط ڈائیلاگ کی فضا نہیں بن پارہی۔

پورے سیشن کو میں چپ کا روزہ رکھے دیکھتا رہا۔ بعد ازاں حافظ سعید سے جو سوالیہ گفتگو ہوئی اس کا جوابی لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان کو اندرونی سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ افغانستان سے مجوزہ امریکی انخلا کے باوجود جب تک پاکستان اور کشمیر کے بارے میں بھارتی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی پاکستان ایک سیکورٹی سٹیٹ ہی رہے گا۔ خطے کے حالات کے سبب اس کا فلاحی ریاست بننا فی الحال ممکن نہیں۔ ہندوستان کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ اگر دیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ فوج کی رضامندی بھی شامل ہے جو کہ افسوسناک بات ہوگی۔

حافظ سعید نے بتایا کہ وہ بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے کے مضامین پڑھتے رہتے ہیں کیونکہ وہ کھری اور سچی بات کرتی ہیں۔ برطانوی صحافی رابرٹ فسک بھی پسند ہیں اور ان سے مل چکے ہیں۔ لیکن امریکی سکالر نوم چومسکی کا بس نام سنا ہے۔ پڑھنے کا موقع اب تک نہیں ملا۔

اسی بارے میں