ڈی آئی خان، لڑکیوں کے سکول میں دھماکہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے ایک سرکاری مڈل سکول میں دھماکہ کیا ہے جس سے عمارت کے دو کمرے تباہ ہو گئے ہیں۔

صوبہ پنجاب اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ واقع اس شہر میں پہلی مرتبہ سکول پر حملے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق یہ سکول درابن روڈ پر کوٹلہ سیدان میں ریڈیو پاکستان کے سامنے واقع ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دھماکے سے سکول کی عمارت کے دو کمرے مکمل تباہ ہوگئے ہیں جبکہ باقی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ نیم شب کے وقت پیش آیا ہے جب نامعلوم افراد نے سکول کے چوکیدار کو رسیوں سے باندھ کر عمارت کے اندر دھماکہ خیز مواد رکھ دیا تھا۔

سکول کے چوکیدار تقی شاہ نے مقامی صحافیوں کو بتایا ہے کہ رات کے وقت جب نامعلوم افراد نے سکول کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو مزاحمت کرنے پر اسے مارا اور پھر رسیوں سے باندھ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کمرے کے اندر کچھ سامان رکھ کر فرار ہو گئے جس کی تھوڑی دیر بعد زور دار دھماکہ ہوا۔

ڈیرہ اسماعیل خان جیسے شہری علاقے میں کسی سکول پر یہ پہلا حملہ ہے۔ اس شہر میں شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات تو پیش آتے رہے ہیں لیکن کبھی کسی سکول کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

قبائلی علاقوں اور صوبے کے دیگر مقامات پر سکولوں پر حملے ہوتے رہے ہیں لیکن اب ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور کچھ عرصے سے شہری سکولوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کےقبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ایک اندازے کے مطابق نو سو کے لگ بھگ سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں