’پاکستان مداخلت کار نہیں بلکہ سہولت کار ہے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہم افغانستان کےاندرونی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کریں گے: عبدالباسط

پاکستان نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ ہونے والی ابتدائی بات چیت کے بارے میں اسے آگاہ کیا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزراتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مصالحتی بات چیت میں پاکستان کا کردار مداخلت کار کا نہیں بلکہ سہولت کار کا ہے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق امریکہ اور طالبان کی بات چیت سے آگاہی کے سوال پر ترجمان نے کہا ’پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے تو برقرار ہیں اور امریکہ نے ہمیں سفارتی ذریعوں سے آگاہ بھی کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ جب امریکہ کے ساتھ روابط مکمل طور پر بحال ہوں گے تو ہمیں مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا‘۔

پاکستان نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب پچھلے سال نومبر میں پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں چوبیس پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں اور پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون پر نظرِثانی کر رہا ہے۔

عبدالباسط کا کہنا تھا ’ہمارا ایک محدود کردار ہے اور اس کردار کا تعین افغانستان کے عوام اور ان کی قیادت کرے گی۔ ہم نے ایک اصولی فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم افغانستان کےاندرونی معاملات میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کریں گے‘۔

ترجمان نے زور دیا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل کی کامیابی کا انحصار افغان عوام کی حمایت پر ہے۔

ان کے مطابق ’ کوئی بھی مصالحتی فارمولہ اس وقت تک پائیدار ہو نہیں سکتا جب تک وہ افغانستان کے عوام اور قیادت کو قابل قبول نہ ہو۔ اس لیے ہماری کوشش یہی ہے جو بھی پہل ہو، جو بھی معاملات اور مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اس کے لیے افغانستان کے عوام کی حمایت ہونی چاہیے‘۔

اس سوال پر کہ کیا وزیراعظم گیلانی اپنے دورۂ قطر کے دوران وہاں کی قیادت کے ساتھ طالبان کے دفتر کھولنے اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مبینہ ابتدائی مذاکرات کے بارے میں بھی بات کریں گے، عبدالباسط نے کہا کہ ’قطر کی قیادت طالبان کے دفتر کے بابت یقیناً وزیراعظم کو آگاہ کرنا چاہیں گے اور جو بات چیت ہماری افغان قیادت سے ہوئی ہے اس بارے میں ہمارے وزیر اعظم قطری قیادت کو آگاہ کریں گے۔افغانستان کا معاملے پر یقیناً بات چیت ہوگی‘۔

ترجمان نے کہا ’ہم نے ہمیشہ سے ہی یہ کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی افغانستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ بالاخر دنیا نے ہمارے موقف کو پذیرائی دی اور اب تمام بڑے کھلاڑی اور افغانستان میں بھی لوگ اس بات کو دیکھ رہے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے ہی افغانستان کے مسئلے کا حل ڈھونڈا جانا چاہیے تو اس لحاظ سے ہم اس کو خوش آئند سمجھتے ہیں کہ مصالحت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک طالبان کے ساتھ روابط کا تعلق ہے پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو پائیدار مصالحت کی طرف لے کر جائے کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے۔ ’جہاں کئی بھی مذاکرات ہورہے ہیں افغانستان کی بہتری کے لیے ہو رہے ہیں، وہاں پر استحکام کے لیے ہورہے ہیں پاکستان ہر کوشش کی حمایت کرے گا‘۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ ’میں کسی خاص پہل کی طرف اشارہ نہیں کرنا چاہوں گا کیوں کہ بہت سی چیزیں ہیں ان سارے معاملامات میں اور وہ کسی نہ کسی حوالے سے جڑے ہوئے ہیں۔جو کوششیں ہیں تمام افغان جو ہیں جو بھی متعلقہ لوگ ہیں اگر اس مصالحت کی حمایت کرتے ہیں پاکستان کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اس کی حمایت نہ کرے‘۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مصالحت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک افغانستان کے عوام اور افغانستان کے رہنما اس کی حمایت نہ کریں اور جب تک ان کا اس پر کوئی فیصلہ یا اتفاق نہ ہوجائے اور بیرونی طاقتیں بشمول پاکستان ایک حد تک ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسی لیے پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ جو بھی مصالحت کا عمل شروع ہو یا میکنیزم ہو اس کی قیادت خود افغانستان کے لوگ کریں اور وہی اس کو آگے بڑھائیں۔

اسی بارے میں