افغان پالیسی پر کئی سوالیہ نشان ہیں : گیلانی

پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب کوئی فرد واحد نہیں بلکہ منتخب پارلیمان بنائے گی۔

اسلام آباد میں اتوار کی شب یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغان پالیسی پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں کیونکہ وہ بھی ایک آمر نے بنائی تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’وہ دن گئے جب ایک شخص بیٹھ کر خارجہ پالیسی بناتا تھا۔ اب ملک کی پارلیمان منتخب نمائندوں کے ذریعے خارجہ پالیسی بنائے گی اور کوئی نہیں بنائے گا‘۔

اسلام آباد سے نامہ نگار احمد رضا نے بتایا کہ وزیرِاعظم نے ملک کی موجودہ افغان پالیسی پر تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پالیسی اس وقت بنائی گئی تھی جب یہاں ڈکٹیٹر تھے جو بیک وقت پاکستان کی مسلح افواج کے جوائنٹ چیف بھی تھے اور آرمی چیف بھی تھے، چیف ایگزیکٹو بھی تھے اور ساتھ ہی ساتھ ملک کے صدر بھی تھے۔‘

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ’ان (جنرل مشرف) کو جب امریکہ کے ایک انڈر سیکریٹری نے فون کیا تو وہ دھڑام سے گرگئے اور انہوں نے تمام مطالبات مان لیے اور اسکا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لینے کے بعد جو سفارشات دی ہیں ان پر پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث ہوگی اور اس پر عوام کے منتخب نمائندے عوامی امنگوں کے مطابق حتمی فیصلہ کریں گے۔

پاکستان کی کشمیر پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق 2008ء سے لائن آف کنٹرول کے آر پار کشمیر کے دونوں حصوں میں شاید چودہ سے پندرہ ارب روپے کا کاروبار ہوچکا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت کے وزیر اعظم سے دوطرفہ امور اور تجارت پر بات چیت سے پہلے انہوں نے چینی وزیر اعظم سے مشاورت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کابینہ نے بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے لیے بات چیت کی منظوری دی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کریں گے۔

‘اگر آپ لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کرتے ہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مسئلہ کشمیر کو حل نہیں ہونے دینا چاہتے یا اس سے دستبردار ہوچکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہے اور وہ ماضی کی طرح کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کرتا رہے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمینٹ بالادست ہے اور اب پاکستان کی کشمیر کے بارے میں پالیسی ہوگی یا جوہری پالیسی یا پھر امریکہ، نیٹو اور آئیساف کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پالیسی ہو، تمام پالیسیز میں پارلیمینٹ میں بحث ہوگی اور عوام کو معلوم ہوگا کہ ان کے منتخب نمائندے کھل کے شفاف انداز میں اس پر بحث ک رکے اور جمہوری طریقے سے پالیسی بنائیں گے۔

مسٹر گیلانی نے کہا کہ جب پارلیمینٹ پالیسی بنائے گی تو اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ اسے اٹھارہ کروڑ عوام کی حمایت حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ’جس پالیسی کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی، وہ پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔‘