28 منتخب نمائندوں کی رکنیت معطل

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے آئین میں ترمیم تک ان اراکین کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 19 اپریل 2010 کے بعد ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے 28 اراکین کی رکنیت معطل کردی ہے۔

معطل ہونے والوں میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تین وزراء بھی شامل ہیں جن میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ، تیل اور قدرتی وسائل کے وزیر ڈاکٹر عاصم حسین اور نارکوٹکس کے وزیر خدا بخش راجڑ ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ یہ ضمنی انتخابات مکمل الیکشن کمیشن کے بغیر ہوئے۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ حکومت ان اراکین کو تحفظ دینے کی خاطر وقت کی مخصوص معیاد میں رہتے ہوئے آئینی ترمیم منظور نہیں کرسکی اس لیے بیسویں آئینی ترمیم کی پارلیمان سے منظوری ہونے تک ضمنی انتخابات میں جیتے ہوئے اراکین کی رکنیت معطل رہے گی۔

سپریم کورٹ کی چار رکنی بینچ نے یہ حکم تحریک انصاف کےسربراہ عمران خان کی درخواست پر دیا ہے۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ضمنی انتخابات کالعدم قرار دیےجائیں کیوں کہ ان کے بقول جن انتخابی فہرستوں کے تحت یہ انتخابات ہوئے تھے ان میں جعلی ووٹروز کا اندراج تھا۔

انھوں نے یہ بھی درخواست کی تھی کہ موجودہ انتخابی فہرستوں کے تحت آئندہ ہونے والے ضمنی انتخابات روکے جائیں۔

سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد قومی اسمبلی کے نو اراکین ، ایوان بالا یا سینٹ کے تین جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پندرہ ارکان معطل ہوگئے ہیں

جس میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے آٹھ، خیبر پختونخواہ کے چار، سندھ کے دو اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کا ایک رکن شامل ہے۔

اس سے پہلے پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی چیئرپرسن نسیم چوہدری عدالت میں پیش ہوئیں اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمنی انتخابات کو تحفظ دینے کے لیے بیسویں ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی گئی لہذا اس ضمن میں مزید مہلت دی جائے۔

لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی اور مزید سماعت اکیس فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

پارلیمنٹ سے بیسویں آئینی ترمیم منظور ہونے کی صورت میں ان اراکین کی رکنیت خود بخود بحال ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو چھ فروری تک مہلت دے رکھی ہے کہ وہ نامکمل الیکشن کمیشن کے تحت منعقد ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیں ورنہ عدالت اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو آئین میں بیسویں ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

اس ترمیمی بل کا مقصد الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے کے دوران جو سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں انہیں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے اعتراض کیا ہے کہ اس بل میں ترمیم کی جائے کہ یہ صرف ایک بار کے لیے ہوگا اور آئندہ نامکمل الیکشن کمیشن کی صورت میں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کی جائے اور اس مقصد کے لیے تمام جماعتوں سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

عدالت نے ضمنی انتخابات رکوانے کے لیے تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

پاکستان کے چیف الیکشن کمیشن نے پہلے ہی قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلیوں کی چار نشتوں کے ضمنی انتخابات 25 فروری کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔