کراچی، ڈومکی خاندان قتل پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں رکن بلوچستان اسمبلی بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کے خلاف جئے سندھ محاذ اور ڈومکی قبیلے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

کراچی میں ایک ہفتہ قبل بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کو ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔ بختیار ڈومکی نواب اکبر بگٹی کے نواسے ہیں اور ان کی اہلیہ نواب اکبر بگٹی کی پوتی تھیں۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی اور آس پاس میں رہنے والے ڈومکی قبیلے کے لوگوں نے پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر احتجاج کیا۔ ان مظاہرین نے ہاتھوں میں بختیار ڈومکی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور بلوچستان میں آپریشن اور ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بلوچ خواتین کے قتل کو ذاتی دشمنی قرار دے کر بلوچ قوم کی دل آزاری کی جارہی ہے، مگر یہ الزام عائد کرنے والوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ بلوچوں کی یہ روایت نہیں ہے کہ دشمنی نکالنے کے لیے خواتین پر ہتھیار اٹھائیں۔

اس احتجاج میں شریک صاحب خان ڈومکی نامی شخص کا کہنا تھا کہ وہ پریشان ہیں کہ آخر یہ نظر نہ آنے والی قوتیں کون ہیں مگر ہلاکتوں کا یہ سلسلہ اب بچوں تک پہنچ گیا ہے۔

’ ہم اعلیٰ عدلیہ سے سوال کر رہے ہیں کہ کون ہے قاتل، ہمارے ساتھ یہ ظلم کیوں ہوا ہے۔ ان نظر نہ آنے والی قوتوں کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ہم پرامن ہیں ہمیں اس پر قائم رہنے دیں۔‘

مومن ڈومکی نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ بختار ڈومکی کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں ہے وہ شرارتی قسم کے لوگ بھی نہیں، وہ کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے۔

اس سے پہلے قوم پرست جماعت جئے سندھ محاذ کی جانب سے بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ گزشتہ دو روز سے سندھ کے مختلف شہروں میں سندھی قوم پرست جماعتوں نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ بلوچ بیٹیوں کے قتل کے خلاف سندھ کی دھرتی استعمال کی جارہی ہے جو ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔

اس واقعے کے خلاف بلوچستان کی صوبائی اور قومی اسمبلی میں احتجاج کیا گیا ہے، صدر آصف علی زرداری نے تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے مگر اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے۔

اسی بارے میں