کنسرٹ میں بھگدڑ: عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایک نجی تعلیمی ادارے کی طرف سے ہونے والے میوزیکل کنسرٹ میں بھگڈر سے ہلاک ہونے والی طالبات کے اہل خانہ نے اعلیْ عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔

یہ مطالبہ ٹی وی اداکار اور ہلاک ہونے والی طالبہ کے والد نسیم عباس نے پریس کانفرنس سے خظاب کرتے ہوئے کیا۔

نسیم عباس نے چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے یہ اپیل کی کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کروا کر اصل حقائق لوگ تک پہنچائے جائیں۔

گزشتہ ماہ نو جنوری کو پنجاب گروپ آف کالجز کے زیر اہتمام الحمراء کلچرل کمپلیکس میں ہونے والے کنسرٹ کے اختتام پر بھگڈر سے تین طالبات ماہین نسیم ، سعدیہ اور فرح نواز جان بحق ہوگئیں۔

ماہین کے والد نسیم عباس کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا تاہم بقول ان کے ایک ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس انکوائری کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ تحقیقاتی رپورٹ کو فوری طور پر سامنے لایا جائے اور اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

نسیم عباس نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے کے سربراہ اور ایک ٹی وی چینل کےمالک میاں عامر محمود میڈیا کو قابو میں کرنے کے بجائے اس حادثے میں ہلاک ہونے والی طالبات کے لواحقین سے معافی مانگیں۔

ماہین کے والد نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے۔

نسیم عباس نے کہا کہ اس سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کی تفریحی سرگرمیوں اور کنسرٹس پر پابندی بلاجواز ہے اور بقول ان کے پابندی لگانے کے بجائے تعلیمی اداروں میں بہتر انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

خیال رہے پنجاب اسمبلی نے اس واقعہ کے بعد ایک قرار داد منظور کی تھی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں موسیقی پروگراموں پر پابندی لگائی جائے تاہم اس قرار داد کی منظوری کے ایک دن کے بعد پنجاب اسمبلی نے نئی قرار داد کے ذریعے میوزک پروگراموں پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں