پشاور: دینی مدارس کے متعدد طلباء گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مدرسوں میں زیادہ تعداد افغان باشندوں کی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک کارروائی کے دوران دینی مدارس میں پڑھنے والے چالیس کے قریب طلباء کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پشاور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز طاہر ایوب نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ منگل کو شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران تقریباً دس غیر قانونی دینی مدرسوں پر چھاپے مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان مدرسوں سے کل چھپین افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں انتالیس افغان طلباء شامل ہیں۔

ان کے مطابق گرفتار ہونے والے افغان طلباء پاکستان میں غیر قانونی طورپر رہائش پذیر تھے۔ ان کے پاس ویزہ اور دیگر سفری دستاویزات نہیں تھے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ سترہ مقامی طلباء کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا تاہم افغان طالب علموں کو چودہ فارن ایکٹ کے تحت چالان کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق پولیس کو شہر میں کسی تخریبی سرگرمی کی اطلاع تھی اور اس سلسلے میں کچھ مدرسوں کی نشاندہی کی گئی تھی تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر گرفتار ہونے والے طلباء کے رشتہ داروں نے پشاور کے علاقہ یکہ توت میں پولیس سٹیشن کے سامنے جمع ہوکر احتجاج کیا اور مقامی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

خیال رہے کہ یہ آپریشن ایسے وقت کیا گیا ہے کہ جب گزشتہ کچھ عرصہ سے پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں دھماکوں اور اغواء برائے تاؤان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پشاور میں درجنوں دینی مدرسے قائم ہیں جن میں سینکڑوں افغان طلباء زیر تعلیم ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں بعض مدرسے غیر قانونی طورپر قائم کئے گئے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ کے پاس ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

اسی بارے میں