بلوچستان میں لاوا پک رہا ہے: جکھرانی

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قومی اسمبلی میں منگل کو نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے

قومی اسمبلی میں منگل کو نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور اٹھائیس نکاتی ایجنڈے کے بجائے سب سے زیادہ وقت نکتہ اعتراضات پر صرف ہوا۔

جیئے سندھ کے سابق لیڈر اور پیپلز پارٹی کے کشمور سے منتخب رکن گل محمد جکھرانی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کے حالات پر جذباتی تقریر کی اور کہا کہ وہاں بنگال جیسی صورتحال ہے۔ ان کے بقول صوبے میں فرنٹیئر کور کا راج ہے اور’ آئی جی ایف سی انتظام چلا رہے ہیں‘۔ایف سی والے ہم پارلیامینٹیرینز کو شودر سمجھتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان سے ہوکر آئے ہیں اور وہاں لاوا پک رہا ہے اور اگر صورتحال کا نوٹس نہیں لیا گیا تو بلوچستان ہاتھ سے نکل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری بلوچستان کے حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ ادارے ایسا نہیں کرنے دیتے۔

منگل کو ایوان میں چوہدری اعجاز ورک نے جب انکشاف کیا کہ دو اراکین قومی اسمبلی اسلحہ لے کر ایوان میں آتے ہیں اور کسی وقت بھی ناخوشگوار واقعہ ہوسکتا ہے۔ جس پر اراکین میں تشویش پیدا ہوئی اور وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے انکوائری کا حکم دیا اور کہا کہ وہ جلد ایوان کو رپورٹ دیں گے۔

کشمالہ طارق نے انکشاف کیا کہ خواتین کے تحفظ کا جو بل منظور ہوا ہے شریعت کورٹ نے اس کا نوٹس لیا ہے اور حکومت اس قانون کے دفاع کے لیے وکیل نہیں بھیج رہی۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کورٹ ایک متوازی عدالتی نظام ہے جو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ جس پر مذہبی جماعتوں کے بعض اراکین انہیں گھورتے رہے۔

قومی اسمبلی میں اس وقت گرما گرمی نظر آئی جب مسلم لیگ (ق) کے ریاض فتیانہ نے پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا تو اس پر حکمران پیپلز پارٹی کے سندھ کے اراکین نے سخت احتجاج کیا۔ ان کا احتجاج پنجاب کو تقسیم کرنے کے خلاف نہیں بلکہ آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ تبدیل کرنے کے خلاف تھا۔

ریاض فتیانہ نے کہا کہ بھارت کے طرز پر صوبے انتظامی ضرورت کی بنا پر بنانے کے لیے کمیشن بنائیں اور پاکستان میں زیادہ صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے اور اس سے قائد اعظم کی روح کو سکون ملے گا۔

جس پر خاموش طبع سندھ کے نوشہرو فیروز سے منتخب رکن سید ظفر علی شاہ بھڑک اٹھے اور کہا کہ ’پہلے قائد اعظم کی گیارہ اگست والی تقریر پر عمل کریں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا‘۔

یوسف تالپور اور دیگر نے بھی صوبہ بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کی شرط ختم کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ صوبائی خود مختاری پر حملے کے مترادف ہے اور وہ کسی طور پر ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ ظفر علی شاہ نے تو کہا کہ اگر پارٹی انہیں مجبور کرے گی تو بھی اس معاملے پر وہ پارٹی کی بات نہیں مانیں گے۔

جب بات دھمکیوں کی نکلی تو خورشید احمد شاہ نے مداخلت کی اور کہا کہ ریاض فتیانہ کا بل مؤخر کیا جائے۔ حالانکہ متحدہ قومی موومینٹ کا اس طرح کا بل پہلے ہی کمیٹی کو بھیجا جا چکا ہے جس پر سندھ میں قومپرست جماعتوں نے سخت احتجاج کیا ہے اور پیپلز پارٹی مفت میں گالیاں کھا رہی ہے۔

ایک موقع پر گھوٹکی سے پیپلز پارٹی کے رکن میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوگئی لیکن ان کے ضلع میں مکمل امن قائم ہے۔ جس پر رحمٰن ملک نے کہا کہ ’یہ بات میرے لیے ہوا کے ٹھنڈا جھونکے کے برابر ہے‘۔ انہوں نے گھوٹکی کے ضلعی پولیس افسر پیر محمد شاہ کو’پاکستان پولیس ایوارڈ‘ دینے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں