سوات:خصوصی قانون ’دارالقضاء‘ میں چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جماعتِ اسلامی پاکستان نے وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں شدت پسندی پر قابو کےلیے نافذ کردہ خصوصی قوانین کو سوات کی ایک عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

دارالقضاء سوات میں دائر کی گئی اس رٹ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ (ایکشن ان ایڈ ٹو سول پاور ریگولیشن دو ہزار گیارہ) قانون بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اس قانون کے تحت سکیورٹی اداراوں کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں لہٰذا اس قانون کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔

یہ درخواست جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شاہ راز خان نے غلام نبی ایڈووکیٹ کے توسط سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ اس قانون کے تحت سکیورٹی اداروں نے دو ہزار آٹھ سے دہشتگردی کے الزامات کے تحت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہوا ہے اور ان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت سکیورٹی اداروں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف ٹینک، بندوق اور توپ کا استعمال کرسکتے ہیں جبکہ ان کے مکان کو بھی مسمار کیا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق ان ریگولیشنز کے تحت موت اور عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ غلام نبی کے بقول یہ قانون نہ صرف بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے بلکہ پاکستان کی طرف سے منظور کردہ تمام بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے اس قانون کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور گرفتار ہونے والے افراد کو باعزت طور پر رہا کیا جائے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ان خصوصی قوانین کا نفاذ گزشتہ سال کیا تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن میں ہزاروں افراد شدت پسندی کے الزامات کے تحت سکیورٹی فورسز کے تحویل میں ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان قوانین کی مزمت کی ہے اور اسے انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں